شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے مابین کثیرالجہتی تجارت کے شعبے میں تعاون اور ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت ہے،

یورو ایشیاء میں امن،سلامتی اور استحکام کے مقاصد کے حصول کیلئے ایس سی او اہم پلیٹ فارم ہے، پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کیلئے کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے ایس سی او کے ساتھ مکمل تعاون کرینگے، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا ایس سی او کے سربراہان حکومت کی کونسل کے اجلاس سے خطاب

جمعہ اکتوبر 19:53

شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے مابین کثیرالجہتی تجارت کے شعبے ..
دوشنبے ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2018ء) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ملکوں کے مابین کثیرالجہتی تجارت کے شعبے میں تعاون اور ٹیرف اور نان ٹیرف رکاوٹیں دور کرنے کی ضرورت ہے، یورو ایشیاء میں امن،سلامتی اور استحکام کے مقاصد کے حصول کیلئے ایس سی او اہم پلیٹ فارم ہے، پاکستان افغانستان میں امن و استحکام کیلئے کوششوں کی مکمل حمایت کرتا ہے اور اس مقصد کے حصول کیلئے ایس سی او کے ساتھ مکمل تعاون کرینگے، پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے۔

یہ باتیں انہوں نے جمعہ کو تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں ایس سی او کے سربراہان حکومت کی کونسل کے 17ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔وزیر خارجہ نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یورو ایشاء میں امن، سلامتی اور استحکام کے مقاصد کے حصول کیلئے ایس سی او اہم پلیٹ ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے تنائو کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی صورتحال میں امن برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

علاقائی رابطوں کے زریعے اقتصادی ترقی کے بارے میں وزیر خارجہ نے سی پیک کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ رکن ملکوں کے مابین کثیر الجہتی تجارت کے شعبہ میں تعاون اور ٹیرف و نان ٹیرف رکاوٹین دور کرنیکی ضرورت ہے۔ انہوں نے ایس سی او ڈویلپمنٹ بنک اور ڈویلپمنٹ فنڈ کے قیام کیلئے تنظیم کی کاوشوں کی بھی حمایت کی۔ ایس سی او ریجنل اینٹی ٹیر رسٹ سٹرکچر(آر اے ٹی ایس)کے تناظر میں وزیر خارجہ نے ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا۔

وزیر خارجہ نے افغانستان میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کی جانب سے مکمل حمایت کا اظہار کیا اور اس سلسلے میں ایس سی او کیساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وزیر خارجہ نے اس موقع پر حکومتی سربراہان سے ملاقاتیں بھی کیں۔ گزشتہ سال جون میں ایس سی او کی مکمل رکنیت کے بعد سربراہان حکومت کی کونسل (سی ایچ جی) کے اجلاس میں پاکستان کی شرکت کا یہ دوسرا موقع ہے۔اجلاس میں چین، قزاخستان، کرغزستان، روس، تاجکستان اور ازبکستان کے وزراء اعظم جبکہ پاکستان اور بھارت کے وزراء خارجہ شرکت کر رہے ہیں۔