کرپشن کرنے پر پھانسی کی سزا، پاکستان نے چین جیسی سزائیں نافذ کرنے پر غور شروع کردیا

نیب اور چین کے درمیان کرپشن کے سدباب کیلئے یادداشت پر دستخط کیے جانے کے بعد واضح امکانات ہیں کہ پاکستان بھی کرپشن اور لوٹ مار کی جڑیں کاٹنے کیلئے اس طرح کے اقدامات کرے گا: تجزیہ کار سلمان غنی

muhammad ali محمد علی جمعہ اکتوبر 19:47

کرپشن کرنے پر پھانسی کی سزا، پاکستان نے چین جیسی سزائیں نافذ کرنے پر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2018ء) کرپشن کرنے پر پھانسی کی سزا، پاکستان نے چین جیسی سزائیں نافذ کرنے پر غور شروع کردیا، تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ نیب اور چین کے درمیان کرپشن کے سدباب کیلئے یادداشت پر دستخط کیے جانے کے بعد واضح امکانات ہیں کہ پاکستان بھی کرپشن اور لوٹ مار کی جڑیں کاٹنے کیلئے اس طرح کے اقدامات کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز چئیرمین نیب جاوید اقبال کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ چین اور پاکستان کے درمیان کرپشن روکنے کیلئے مشترکہ کوششوں کیلئے خصوصی یادداشت پر دستخط کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے اب معروف صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کی جانب سے بڑا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تجزیہ کار سلمان غنی کہتے ہیں کہ کرپشن کرنے پر پھانسی کی سزا کیلئے پاکستان نے چین جیسی سزائیں نافذ کرنے پر غور شروع کردیا ہے۔

(جاری ہے)

تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ نیب اور چین کے درمیان کرپشن کے سدباب کیلئے یادداشت پر دستخط کیے جانے کے بعد واضح امکانات ہیں کہ پاکستان بھی کرپشن اور لوٹ مار کی جڑیں کاٹنے کیلئے اس طرح کے اقدامات کرے گا۔ سلمان غنی کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین سے پہلے اس یادداشت پر دستخط اور سی پیک کے منصوبوں میں شکایت کے اقدامات کو اہم قرار دیا جا سکتا ہے۔

ملکی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ماضی میں پاکستان میں کرپشن اور لوٹ مار میں اضافہ اس لئے ہوا کہ یہاں بڑی بڑی اہم پوزیشنز پر کام کرنے والے اس کے مرتکب ہوتے رہے اور ان کے گرد قانون کا شکنجہ کسنے کے بجائے انہیں ریلیف ملتا رہا، ان کیلئے این آر او ہوتے رہے ۔ لہٰذا پاکستان کی معیشت تو ڈانواں ڈول ہوتی رہی مگر یہاں لوگ امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور کبھی کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ وہ قانون کی پکڑ میں آئیں گے۔

لہٰذا اب جب کرپشن نے اپنی انتہاؤں کو چھوا تو احتساب کا عمل حکومتوں کے بجائے اداروں کی تحریک پر شروع ہوا اور اب اٹھائے جانے والے اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل میں کوئی بدعنوانی اور بے ضابطگی کے کسی عمل میں فریق بننے کے حوالے سے سو بار سوچے گا لیکن اس سارے عمل کے ساتھ اس امر کو یقینی بنانا لازم ہے کہ قانون کی حاکمیت کے لئے شکنجہ ان کے گرد ہی کسا جانا چاہئے جو اس کے مرتکب ہوتے ہیں نہ کہ کسی سیاسی انتقام کا حصہ بنتے ہوئے اقدامات ہوں کیونکہ سیاسی انتقام کی بناء پر احتسابی عمل نہ تو کارگر ہو سکے گا اور نہ ہی نتیجہ خیز، لہٰذا وقت آ گیا ہے کہ چین کے ساتھ یادداشت پر دستخطوں کے ساتھ سی پیک کے منصوبوں میں بھی شفافیت نظر آنی چاہئے اور قومی تعمیر و ترقی کے لئے اٹھائے جانے والے دیگر اقدامات میں بھی شفافیت قائم رہنی چاہئے۔

اس سے پاکستان کا وقار بھی بلند ہوگا۔ ملک میں گورننس کا خواب بھی حقیقت بنے گا۔ ادارے بھی مضبوط ہوں گے اور ملک میں میرٹ کی حاکمیت بھی قائم ہو سکے گی اور پاکستان جن مقاصد کے تحت وجود میں آیا ہے ان کی تکمیل میں بھی مدد ملے گی اور خاص طور پر دیانتداری سے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ ترقی کے مراحل طے کر سکیں گے۔