میئر کراچی نے کے ایم سی کے محکمہ انسداد تجاوزات کو کسی بھی مد میں شہریوں کو چالان جاری کرنے یا رقم وصول کرنے سے روک دیا

محکمہ انسداد تجاوزات کے اختیارات ختم کردیئے ہیں، آئندہ محکمے کا کوئی افسر یا عملہ شہریوں کو کسی بھی مد میں کوئی چالان جاری نہیں کرے گا،وسیم اختر

جمعہ اکتوبر 20:45

میئر کراچی نے کے ایم سی کے محکمہ انسداد تجاوزات کو کسی بھی مد میں شہریوں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اکتوبر2018ء) میئر کراچی وسیم اختر نے کے ایم سی کے محکمہ انسداد تجاوزات کو کسی بھی مد میں شہریوں کو چالان جاری کرنے یا رقم وصول کرنے سے روک دیا ہے اور اس سلسلے میں محکمہ انسداد تجاوزات کے اختیارات ختم کردیئے ہیں، آئندہ محکمے کا کوئی افسر یا عملہ شہریوں کو کسی بھی مد میں کوئی چالان جاری نہیں کرے گا، میئر کراچی نے شہریوں سے بھی درخواست کی ہے کہ اگر اینٹی انکروچمنٹس کا عملہ یا افسر چالان دے کر رقم طلب کرے یا بینک میں چالان جمع کرانے کے لئے کہے تو اس کی فوری اطلاع بلدیہ عظمیٰ کراچی کو دی جائے، انہوں نے یہ ہدایت بھی کی کہ کوئی بھی ایسا شخص جس کا تعلق کے ایم سی سے نہ ہو اور وہ خود کو کے ایم سی اینٹی انکروچمنٹس کا نمائندہ ظاہر کرکے کسی مد میں رقم لے یا چالان دے تو اسے فوری پولیس کے حوالے کیا جائے کیونکہ محکمہ انسداد تجاوزات کے یہ تمام اختیارات ختم کردیئے گئے ہیں، بعض جگہوں سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ مختلف علاقوں میں غیر متعلقہ اشخاص انکروچمنٹس کے نام پر رقوم وصول کرتے ہیں جس کا سختی سے نوٹس لیا گیا ہے اور اینٹی انکروچمنٹ ڈپارٹمنٹ کے تمام متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر ز، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، انسپکٹرزکو ہدایت کردی گئی ہے کہ آج کے بعد اگر کوئی بھی افسر یا عملہ کسی بھی مد میں چالان جاری کرنے یا رقم کی وصولی میں ملوث پایا گیا تو نہ صرف اسے اس کے عہدے سے فارغ کردیا جائے گا بلکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی، قبل ازیں ریونیو سے متعلق محکموں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ انکروچمنٹ کے خاتمے کیلئے ایک بڑا اقدام اٹھا رہے ہیں، آئندہ کسی انکروچمنٹ کے خاتمے کیلئے کوئی چالان نہیں دیا جائے گا،پولیس اور تمام شعبہ جات ہمارے ساتھ ہیں،کے ایم سی کی حدود میںواقع تمام تجاوزات ہٹائیں گے، محکمہ انسداد تجاوزات آئندہ کے ایم سی کی آمدنی کا ذریعہ نہیں ہوگا اور اس کا کام صرف اور صرف شہر سے تجاوزات کاخاتمہ کرنا ہوگا، محکمہ انسداد تجاوزات کا کوئی بھی افسر یا عملہ کسی بھی مد میں شہریوں سے کوئی رقم وصول نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی چالان جاری کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ تجاوزات کی وجہ سے شہریوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ شہر کے انفراسٹرکچر کو بھی ان سے نقصان پہنچتا ہے لہٰذا شہر میں کسی بھی جگہ سڑکوں یا فٹ پاتھوں پر قائم تجاوزات ہرگز برداشت نہیں کی جائیں گی، محکمہ انسداد تجاوزات فوری طور پر کے ایم سی کی حدود میں واقع تمام علاقوں میں ہر قسم کی تجاوزات کے خاتمے کے لئے عملی اقدامات شروع کردے، انہوں نے کہا کہ میں خود ذاتی طور پر تجاوزات کے خلاف مہم کی نگرانی کر رہا ہوں اور اس ضمن میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، اجلاس میں مختلف محکموں کے سربراہان کو ریونیو ریکوری کے حوالے سے جاری کی گئیں سابقہ ہدایات پر عملدرآمد اور اس حوالے سے محکمے کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ بھی پیش کیا گیا، میئر کراچی نے محکمہ اراضیات کو ہدایت کی کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کی دستیاب خالی اراضی کی نیلامی اور کمرشلائزیشن فیس کی وصولی کا اختیار حاصل کرنے کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں، ادارے کو مالی طور پر مستحکم بنانے کے لئے ریونیو میں اضافہ ضروری ہے لہٰذا ریکوری سے متعلق تمام محکمے دی گئیں ہدایات پر بلاتاخیر عملدرآمد یقینی بنائیں، ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ریونیو کے نئے ذرائع تلاش کریں اور قانونی پیچیدگیوں کا بروقت حل نکالتے ہوئے تمام ایشوز کو جلد از جلد حل کریں، اس حوالے سے کوئی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، اس موقع پر میٹروپولیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن، چیئرمین اراضیات کمیٹی سید ارشد حسن، چیئرمین مالیات کمیٹی ندیم ہدایت ہاشمی، ڈائریکٹر ٹیکنیکل ٹو میئر ایس ایم شکیب، سینئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن مسعود عالم، مشیر قانون عذرا مقیم ،سینئر ڈائریکٹر فنانس اینڈ اکائونٹس ، سینئر ڈائریکٹر ایچ آر ایم اور ریونیو ریکوری سے متعلق تمام محکموں کے سربراہان اور دیگر افسران بھی موجود تھے، میئر کراچی نے اجلاس میں تمام پارکس اور تفریحی مقامات پر اندرونی سڑکوں کی فوری مرمت جبکہ بیرونی دیوار کے ساتھ فٹ پاتھ پر قائم ہر قسم کی تجاوزات کے خاتمے اور ڈیفالٹر کنٹریکٹرز کو ٹینڈرنگ کے لئے بلیک لسٹ قرار دینے کی ہدایت کی ، انہوں نے کہا کہ کے ایم سی کی مارکیٹوں اور دیگر اراضی کے کرائے کی مارکیٹ ریٹ پر ریکوری ہونی چاہئے، ہاکس بے اور دیگر ساحلی مقامات پر کے ایم سی کی اراضی پر قائم ہٹس کیلئے سالانہ لینڈ رینٹ کی موجودہ شرح میں اضافے کے لئے فارمولا وضع کیا جائے اور اس اراضی کے مزید بہتر استعمال کے لئے تجاویز دی جائیں، کے ایم سی کی حدود میں قائم پیٹرول پمپس کے حوالے سے بھی میئر کراچی نے ہدایت کی کہ پیٹرول پمپس کے آکشن اور سالانہ لینڈ رینٹ میں مناسب اضافے کیلئے محکمہ اراضیات اور محکمہ قانون باہمی کوآرڈینیشن کو بہتر بنائیں، انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد شہر کو بہتر بنانا اور شہری سہولیات میں اضافہ کرنا ہے جس کے لئے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو مالی طور پر مستحکم بنانا ضروری ہے ، ریکوری میں اضافہ کرکے شہری سہولیات کی فراہمی کے لئے کئے جانے والے کام بڑھائے جاسکتے ہیں لہٰذا تمام محکمے اپنا فعال کردار ادا کریں ۔