معاشی وترقیاتی اخراجات پوراکرنے کیلئے مالی وسائل کوبڑھایاجائے،وزیراعلیٰ محمودخان

پیر اکتوبر 23:22

معاشی وترقیاتی اخراجات پوراکرنے کیلئے مالی وسائل کوبڑھایاجائے،وزیراعلیٰ ..
پشاور۔15 اکتوبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 15 اکتوبر2018ء) وزیر اعلیٰ خیبر پختو نخوا محمو د خا ن کے زیر صدارت ہو نے والے صوبا ئی کا بینہ کے اجلا س میں خیبر پختو نخوا کے ما لی سال 2018-19 کے مجو زہ بجٹ کی منظو ری دے دی گئی جبکہ گز شتہ ما لی سال کے نظر ثا نی شدہ بجٹ کی بھی منظو ری دی گئی ہے۔اجلاس میں صوبائی وزراء، چیف سیکر ٹری، ایڈیشنل چیف سیکر ٹری اور تمام محکمو ں کے انتظا می سیکر ٹریوں نے شر کت کی۔

سو ل سیکر ٹر یٹ پشاور میں ہو نے والی خیبر پختو نخوا کا بینہ کے اجلا س میں بجٹ برا ئے ما لی سال 2018-19 کے تخمینہ جا ت، گز شتہ بجٹ کے نظر ثا نی شدہ تخمینہ جا ت، موجودہ سا لا نہ تر قیا تی پروگرا م اور جا ری منصو بو ں، شعبہ جا ت میںوسا ئل کی تقسیم، سا لا نہ تر قیا تی پلا ن، ضلعی حکو متو ں کے لئے 30 فیصد کی منتقلی، صوبے میں جا ری تما م میگا پرا جیکٹس کے حوالے سے بر یفنگ دی گئی۔

(جاری ہے)

کا بینہ اجلا س میں فلا حی و تر قیا تی اخر اجا ت پیداواری شعبوں کو تقو یت دینے ، وفا ق کی طر ف سے صو بے کو ملنے والے حصے، صو بے میں کفا یت شعا ری کے اقداما ت کے حوالے سے امو ر بھی زیر غو ر آئے اور ان کی منظو ری دی گئی۔ کا بینہ نے ما لی سال 2018-19 کے مجو زہ بجٹ کی تمام تجا ویز اور تر قیا تی و غیر تر قیا تی اخراجا ت کے با رے میں تمام تجا ویز منظو ر کیں۔

صوبا ئی کا بینہ کو صوبے میں ضم شدہ 7 اضلا ع کے سالانہ تر قیا تی پروگرام، جا ری منصو بو ں کی بر وقت تکمیل اور نئے منصوبو ں کے اجراء کے با رے میں بھی آگا ہ کیا گیا اور منظو ری دی گئی۔ ان اضلا ع کی ADP میں چھو ٹے ڈیمو ں کی تعمیر، صنعتی و معد نی ترقی ٹیکنکل ایجو کیشن کے اقداما ت کی بھی کا بینہ اجلا س میں منظو ری دی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے کا بینہ کے اجلا س سے خطا ب کر تے ہو ئے کہا کہ مو جو دہ بجٹ دو اہم تر ین پہلو ًو ں پر مشتمل ہے جس میں عوام کی فلا ح و بہبو د اور تر قی کیلئے اصلا حا ت اور حقیقی تر قیا تی حکمت عملی شا مل ہے۔

اُنہو ں نے محکمہ خزانہ اور دیگر صوبا ئی محکمو ں کی بجٹ کی تیا ری میں انتھک محنت کو سرا ہا۔ وزیر اعلیٰ نے صوبے کی ما لیا تی گنجا ئش وسیع کر نے پر آمادگی کا اظہا ر کیا اور مر کز ی حکو مت سے صو بے کو ملنے والے وسا ئل کی جلد منتقلی پر زور دیا۔ انہو ں نے کہا کہ صو بے کے اپنے ما لیا تی و سا ئل کو بڑ ھا یا جا ئے تا کہ صوبے کے معا شی و تر قیا تی اخر ا جا ت کو پو را کر نے کے سا تھ ساتھ عوام کے مسا ئل کا تدارک کیا جا سکے۔

وزیر اعلیٰ نے تما م محکمو ں کے لئے وضع کر دہ اہداف کو پو را کر نے کی ہدایت کر تے ہو ئے کہا کہ ما لیا تی گنجا ئش کی تو سیع سے صوبے کی تر قی و اصلا حا ت کیلئے وسا ئل حا صل ہو سکیں گے۔ اُنہو ں نے کہا کہ وسا ئل کا زیا دہ حصہ میگا پراجیکٹس اور جا ری منصو بو ں کو دیا جا ئے۔ انہو ں نے دستیا ب وسائل کے شفا ف اور مو ثر ا ستعما ل پر زور دیتے ہو ئے کہا کہ صوبے کے پیداواری شعبو ں کو تر قی دے کر ان سے زیا دہ سے زیا دہ معا شی استفا دہ کیا جا سکتا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی حکو مت کو اگلے پا نچ سا ل کے دوران صحیح سمت میں گا مزن کر نے کے لئے سو روزہ پلا ن بنایا ہے۔وزیر اعلیٰ محمود خان نے کفایت شعاری اور سادگی کے اقدامات کو یقینی بنانے کے لیے بجٹ میں پیش تجاویز جن میں نئی گاڑیوں کی خرید پر پابندی ، بیرون ملک علاج کے اخراجات شامل ہیں ، پر اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ خزانے پر بوجھ کو کم کرنے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے لوکل گورنمنٹ سسٹم کو وسائل کی جلد فراہمی اور محکمے کے زیر نگرانی جاری تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل کی بھی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے صوبے میں ضم کیے گئے 7اضلاع میں مختلف شعبوں کی ترقی و بہتری کے لیے اقدامات پر مستعدی سے کام کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان 7اضلاع میں سب سے زیادہ پسماندہ اضلاع کو ترجیحی بنیادوں پر توجہ دی جائے، سابقہ قبائلی اضلاع میں چھوٹے ڈیموں کی تعمیر، سڑکوں کی تعمیر، سماجی بہبود کے اقدامات اور شعبہ سیاحت کو بہتر بنانا ہے۔

وزیر اعلیٰ نے سوات ، ملاکنڈ، دیر، ہزارہ اور صوبے کے دیگر مقامات پر سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی ترقیاتی حکمت عملی صوبے میں معاشی سرگرمیوں کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر نا ہے جس کی بدولت صوبہ مجموعی طور پر خوشحال اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔