فلیگ شپ ریفرنس میں اہم گواہ واجد ضیا نے تفتیش کے دوران اکھٹی کی گئیں دستاویزات جمع کروادیں

قطری شہزادے حمد بن جاسم بن جابر الثانی کی طرف سے سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو لکھے گئے خطوط کی تفصیلات بھی پیش

Mian Nadeem میاں محمد ندیم منگل اکتوبر 13:34

فلیگ شپ ریفرنس میں اہم گواہ واجد ضیا نے تفتیش کے دوران اکھٹی کی گئیں ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 16 اکتوبر۔2018ء) سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر فلیگ شپ ریفرنس میں اہم گواہ پاناما جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے سربراہ واجد ضیا نے تفتیش کے دوران اکھٹی کی گئیں دستاویزات جمع کرادی جس کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا. احتساب عدالت میں جج ارشد ملک نے فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت کی جہاں پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے دوسرے روز بھی اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا.

واجد ضیا نے جے آئی ٹی کی طرف سے اکٹھی کی گئی دستاویزات فلیگ شپ انوسٹمنٹ کی 2002 سے 2016 تک کی فنانشل اسٹیٹمنٹ پیش کر دی.

(جاری ہے)

انہوں نے قطری شہزادے حمد بن جاسم بن جابر الثانی کی طرف سے سپریم کورٹ اور جے آئی ٹی کو لکھے گئے خطوط کی تفصیلات بھی پیش کیں اور دوحہ میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے دفتر خارجہ کو لکھا گیا خط بھی عدالت میں پیش کی. واجد ضیا نے عدالت کو بتایا کہ پاکستانی سفارت خانے کی رکن سعدیہ گوہر نے اپنے خط کے ساتھ قطری شہزادے کا خط دفتر خارجہ کو بھیجا اور دفتر خارجہ کے ڈائریکٹر آفاق احمد نے جے آئی ٹی کو حمد بن جاسم کا سر بمہر خط پہنچایا.

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آفاق احمد جب عدالت میں پیش ہوئے تھے تو انہوں نے یہ خط نہیں دکھایا جس پر خواجہ حارث کا جج ارشد ملک سے مکالمہ بھی ہوا. جج ارشد ملک نے کہا کہ دستاویزات زیادہ ہیں تو بہتر ہے ان کی فہرست یو ایس بی میں لے آئیں اور خواجہ حارث فہرست پڑھ کر جہاں ضروری ہو اپنا اعتراض لکھوا دیں. خواجہ حارث نے کہا کہ آج ایسے ہی چلنے دیں کل سے یو ایس بی میں لے آئیں.

کمرہ عدالت میں نوازشریف کو فیصل آباد سے آنے والے لیگی رہنما اسرار احمد خان نے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست پر مسلم لیگ (ن) کی جیت کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا. خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اس سے قبل احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس میں 10 سال قید کی سزا دی تھی جس کے بعد انہیں رواں سال جولائی میں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا تھا.

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کی سزا کو معطل کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا تھا. یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ برس جولائی میں نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کو ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت کی تھی جس کے بعد نیب نے راولپنڈی کی احتساب عدالت میں ان کے علاوہ مریم نواز، حسن نوا، حسین نواز اور ان کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف بھی ریفرنس دائر کیا تھا.

احتساب عدالت کے معزز جج نے گزشتہ روز سماعت کے دوران ریمارکس دیے تھے کہ سپریم کورٹ نے اس کے بعد مزید وقت نہ دینے کا کہا ہے. خواجہ حارث نے واجد ضیاءکی جانب سے طارق شفیع کا بیان حلفی پیش کرنے پراعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ طارق شفیع نہ اس کیس میں گواہ ہیں نہ ہی ملزم ہے. نوازشریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ طارق شفیع کا بیان حلفی قانون کے مطابق تصدیق شدہ نہیں، طارق شفیع کا بیان حلفی شہادت کے طورپرپیش نہیں کیا جاسکتا. یاد رہے کہ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف العزیز یہ اور فلیگ شپ ریفرنس نمٹانے کے لیے احتساب عدالت کو17 نومبر تک کی مزید مہلت دی تھی.