ہم نے ماضی کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھا، اپنے بچوں کو یہ تاریخ بھی پڑھانی چاہیے کہ ہمارا ملک کیوں دولخت ہوا، کس نے توڑا ، کس نے لوٹا ،

مگر ہم ایسا اس لئے نہیں کرتے کیونکہ ہم سب کسی نہ کسی طرح اس حمام میں ننگے ہیں،گزشتہ ادوار میں نیب کے ساتھ پلی بارگین کرنے والے پھر ایوانوں میں بیٹھے ہیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کا قومی اسمبلی میں اظہار خیال

بدھ اکتوبر 19:28

ہم نے ماضی کے تجربات سے کچھ نہیں سیکھا، اپنے بچوں کو یہ تاریخ بھی پڑھانی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 17 اکتوبر2018ء) بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا ہے کہ ہم قومی تاریخ میں مسلسل تجربات کرتے چلے آرہے ہیں جس کے نتیجے میں ملک متعدد مرتبہ پٹڑی سے اترا اور دولخت بھی ہوا مگر ہم نے ان تجربات سے کچھ نہیں سیکھا‘ سب کا بلاامتیاز احتساب ہونا چاہیے۔ بدھ کو قومی اسمبلی کے ریکوزیشن اجلاس میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ اگر ہم ملک کی پارلیمانی تاریخ دیکھیں تو تاریخ کم تاریکی زیادہ نظر آئے گی۔

1947ء سے اب تک اس ملک پر کون سے تجربات نہیں ہوئے لیکن ان سے سبق نہیں سیکھا گیا۔ ان تجربات کی بدولت ملک کو پٹڑی سے اتارا گیا اور ملک دولخت بھی ہوا۔ ہم نے کبھی اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہیں کیا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ الیکشن کے بعد جب حکومت بنتی ہے اور اپوزیشن وجود میں آتی ہے تو ہم سب کچھ بھول کر نئے نئے تجربات شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے مگر دیکھنا یہ ہوگا کہ احتساب کا دائرہ کاں تک ہوگا۔

یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ احتساب صرف مالی کرپشن کرنے والوں کا ہوگا یا آئین توڑنے والوں اور بے گناہوں کا قتل عام کرنے والوں کا بھی ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ احتساب صرف سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کے لئے بطور دبائو استعمال تو نہیں کیا جارہا۔ سیاسی وفاداریاں تبدیل کرانے کے ساتھ ساتھ ہم نے ملک کو بدلے میں کیا کیا نقصانات دیئے۔

ہمیں اپنے بچوں کو یہ تاریخ بھی پڑھانی چاہیے کہ ہماراملک کیوں دولخت ہوا، کس نے توڑا ، کس نے لوٹا مگر ہم ایسا اس لئے نہیں کرتے کیونکہ ہم سب کسی نہ کسی طرح اس حمام میں ننگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ادوار میں بنائے جانے والے نیب قوانین کے تحت پلی بارگین کے ذریعے لوگوں کے ساتھ لین دین کیا گیا۔ وہی لوگ پھر سینٹ اور اسمبلیوں میں منتخب ہوکر بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اس بات کی طرف ایوان کی توجہ دلائی کہ گوادر میں گزشتہ کچھ دنوں سے ماہی گیر سراپا احتجاج ہیں۔ ان کے مطالبات کا نوٹس لیا جائے۔