گوادر کی ترقی اور خوشحالی سے پاکستان ترقی کرے گا،سینیٹرسراج الحق

اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑا گیا تو اس کے خلاف سخت ردعمل دیں گے ،امیر جماعت اسلامی پاک افغان سرحد بند ہونے سے لوگوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں، صوبے میں 35ہزار اسامیاں خالی ہیں ،ملک بھر میں سب سے زیادہ گھوسٹ اسکول اور استاتذہ بلوچستان میں ہیں،پریس کانفرنس سے خطاب

پیر اکتوبر 17:19

گوادر کی ترقی اور خوشحالی سے پاکستان ترقی کرے گا،سینیٹرسراج الحق
کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء) جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سینیٹرسراج الحق نے کہا ہے کہ گوادر کی ترقی اور خوشحالی سے پاکستان ترقی کرے گا اور خوشحال ہوگا اس لئے یہاں کے لوگوں کے اعتماد کو مذکورہ نظام پر بحال کرنا ہے اگر اٹھارویں آئینی ترمیم کو چھیڑا گیا تو اس کے خلاف سخت ردعمل دیں گے موجودہ پی ٹی آئی کی حکومت نوجوانوں اور قوم سے کئے گئے وعدے نعرے پورے نہیں کررہی جس کی وجہ سے غلط اقدامات اٹھانے سے ملک میں مہنگائی کی نئی پیدا ہونے والی لہر سے لوگوں میں شدید مایوسی اور تشویش پائی جاتی ہے معاشی حوالے سے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے کبھی بھی کسی ملک کو ترقی نہیں دی بلکہ معاشی اعتبار سے انہیں اپنے شکنجے میں جکڑا ہے موجودہ حکمران آئی ایم ایف کے پاس جانے کو معاشی خودکشی قرار دیتے تھے آج ان کی اپنی باتیں غلط ثابت ہورہی ہے اور وہ ملک و قوم کو معاشی حوالے سے اربوں روپے مزید مقروض بنانے کے لئے آئی ایم ایف کے پاس جارہے ہیں اس لئے اپوزیشن جماعتیں ان کے 100روزہ حکومتی کارکردگی کے حوالے سے ماضی کی باتوں کے حوالے سے آئینہ دکھا رہے ہیں جس کو وہ معیوب سمجھتے ہیں بلوچستان میں 30ارب روپے امن وامان اور اربوں روپے صفائی پر خرچ کرنے کے باوجود بلوچستان کی حالت زار انتہائی مخدوش ہے پاک افغان سرحد بند ہونے سے لوگوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہے صوبے میں 35ہزار اسامیاں خالی ہے اور ملک بھر میں سب سے زیادہ گھوسٹ اسکول اور استاتذہ بلوچستان میں ہے،انہوں نے یہ بات پیر کے روز جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،اس موقع جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی ،جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت الرحمان ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات ولی شاکر ، مولانا ولی محمد شاکر ، زاہد احمد بلوچ ، بشیر احمد ماندائی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے سراج الحق کا کہنا ہے کہ ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی صورتحال غیر یقینی ہے اور تحریک انصاف بغیر کسی تیاری کے حکومت ملی جس کی وجہ سے غلط پالیسیاں اور اقدامات اٹھانے کی وجہ سے ملک بھر میں مہنگائی کا سیلاب امڈ آیا اور عوام میں مایوسی پھیلی کیونکہ نئی حکومت کے آنے سے تبدیلی صرف چیزوں کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی صورت میںآئی ہے بلوچستان معدنیات قدرتی وسائل اور گیس ، سونا ، چاندی جیسی دولت سے مالا مال ہے پاک افغان سرحد دو روز بند ہونے سے لوگوں کی مشکلات بڑھ جاتی ہے صوبے میں صرف 12فیصد آبادی کو بجلی کی سہولت میسر ہے اور تعلیم کی ناگفتہ بے کی وجہ سے ناخواندگی کی شرح 64فیصد ہے صوبے میں آج بھی 35ہزار اسامیاں خالی پڑی ہے جن پر تعیناتیاں نہیں ہورہی پاکستان میں سب سے زیادہ گھوسٹ اسکول اور اساتذہ بلوچستان میں ہے یہی صورتحال شعبہ صحت کی ہے ہسپتالوں میں ڈسپرین کی گولی اور سرنج تک موجود نہیں حکومت تعلیم پر دو فیصد اور صحت پر بھی بہت کم رقم خرچ کرتی ہے جس کے حساب سے ایک شخص پر 111روپے خرچ کرتی اور دس کروڑ عوام صاف پانی اور 8کروڑلوگ گھروں سے محروم ہے اور فٹ پاتھ پر زندگی گزارنے پر مجبور ہے حکومت اقدامات سے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں حکومت 30ارب روپے امن وامان پر جبکہ کروڑوں روپے صفائی پر خرچ کرنے کے باوجود صوبے کی صورتحال انتہائی گھمبیر اور ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے مطابق سب سے زیادہ کرپشن بھی بلوچستان میں ہے حکومت سی پیک منصوبے کی تفصیلات چھپا رہی ہے لوگوں کو اس کے بارے میں بتا کر تحٖفظات دور کئے جائے گوادر پر سب سے زیادہ حق وہاں کے مقامی لوگوں کا ہے انہیں سہولیات دی جائیں تحریک انصاف نے برسراقتدار آنے کے بعد نوجوانوں کو ایک کروڑ نوکریاں اور لوگوں کو پچاس لاکھ گھر دینے کا اعلان کیا تھا لیکن بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غلط فیصلوں سے ملک اور قوم میں مایوسی پھیل رہی ہے عمران خان کی کابینہ میں زیادہ لوگ مشرف دور کے ہے اور آئی ایم ایف کا نیا قرضہ ملک و قوم کو مزید بحرانوں می ڈبو دے گا حکومت اپنے اخراجات وی آئی پی پروٹوکول غیر ترقیاتی اخراجات کم کرے اور قوم کا اعتماد بحال کرکے کام کرے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کسی بھی ملک و قوم کو ترقی نہیں دیتے بلکہ اپنی سخت شرائط میں جکڑتے ہے انہوں نے کہا کہ جاپان نے تعلیم پر توجہ دے کر ترقی حاصل کی تحریک انصاف نے حکومت میں آکر تلخی اضافہ کیا عمران خان نے خود اعتراف کیا ہے کہ اکثریت سیاسی جماعتوں کی قیادت مجرم ہے اس لئے وزیراعظم نے یہ بات سوچ سمجھ کر کسی ثبوت کے تحت کی ہے اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ جو لوگ مجرم ہے ان کے خلاف کون سے جرائم ہے ان کی جرائم اور ناموں سمیت لسٹ عوام کے سامنے لاکر انہیں جیل میں ڈالا جائے اس کے ساتھ ہی پانامہ کیس میں 436سے زائد لوگوں کے نام ہے ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اور نیب بلا تفریق ہر ایک کا احتساب کرے کیونکہ نیب کے پاس 150میگا کرپشن سکینڈل کے کیسز ہے ان پر بھی کارروائی کی جائے اور نیب تمام سیاسی غیر سیاسی کے علاوہ بیوروکریسی جرنیل ، ججز کا بھی احتساب کرے جنہوں نے قومی دولت کو لوٹ کر قوم اور اس کے بچوں کو عالمی بینکوں کا مقروض بنایا اور واپڈا پی ٹی سی ایل ، اسٹیل مل سمیت دیگر ملکی اداروں کو دیوالیہ کیا سب کا احتساب ہونا چاہیے اور ملک سے باہر پڑے ہوئے 345ملین ڈالر واپس لا کر ملک و قوم کو قرضوں سے نجات دلائی جائے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مہنگائی بڑھانے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کرکے ملک سے باہر منتقل ہونے والی رقم واپس لائی جائے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک کی بڑی جماعتوں میں جمہوریت نہیں وہ ملک میں کیا جمہوریت لائیں گی کیونکہ یہاں پر شخصیت پرستی سیاست کو کمزور کررہی ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کو وقت ملنا چاہیے اپوزیشن صرف انہیں قوم سے کئے گئے وعدے یاد دلا رہی ہے عوام کو مہنگائی سے نجات دلائیں ، مراعات یافتہ طبقے کے علاوہ حکومت نے عوام سے کوئی انصاف نہیں کیا اس لئے حکومت سودی نظام کا خاتمہ کرکے ملک میں زکواة عشر کا نظام نافذ کرے ، ضمنی انتخاب کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت کے اپنے حلقوں میں کمی آئی ہے ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اسلام نے خواتین کو جو حق دیا ہے اس کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو ہم مزاحمت کریں گے اور اللہ کے احکامات میں تبدیلی کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم سخت ردعمل دیں گے یہ ملک اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اور ہمیں وسائل سے نوازا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان وسائل کو بہتر طور پر خرچ کرکے مس منیجمنٹ اور کرپشن کو ختم کرکے قوم کا اعتماد بحال کیا جائے پاکستانی غیر تمند ، دلیر اوربہادر قوم ہے جس نے ہر مشکل وقت میں ہماری مائوں بہنوں سمیت اس کے استحکام اور سربلندی کے لئے اپنی جانیں نچاور کی ہے ۔