سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کی شدید مذمت

اقوام متحدہ سے بے گناہ کشمیری شہریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا نوٹس لینے کا مطالبہ،داخلہ کمیٹی میں قرار داد لانے پر اتفاق تین سال کے دوران 4 ہزار سے زائد افراد کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے ،بریفنگ چیئرمین کمیٹی نے 3 سال سے زائد ای سی ا یل میں موجود ناموں کی تفصیلات طلب کرلی بہت سے لوگ مر گئے ہیں لیکن ان کا نام ای سی ایل میں ہے، چیئرمین کمیٹی رحمن ملک آئندہ اجلا س میں ہاوسنگ سوسائٹیز کے نمائندوں کو بریفنگ کیلئے بلالیا

پیر اکتوبر 19:07

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس،مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رحمان ملک کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں سرینگر میں 19 لوگوں کو شہید کرنے کے واقعہ اور بھارتی جارحیت کی پرزور مذمت کی گئی ۔ اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بے گناہ کشمیری شہریوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا نوٹس لیں ۔ داخلہ کمیٹی میں اس حوالے سے قرار داد بھی لانے پر اتفاق کیا گیا ۔

کمیٹی میں چیئرمین سی ڈی اے اور دیگر ممبران شریک ہوئے ۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کا اختیار صرف سیکرٹری داخلہ کے پاس ہونا چاہئے ۔ اس حوالے سے سفارشات دی جائیں تاکہ ہم اسمبلی کو اس حوالے سے بھجوا سکیں ۔ سیکرٹری داخلہ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی ۔

(جاری ہے)

سیکرٹری داخلہ نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ کے حوالے سے کمیٹی کو بریفنگ دی ۔

سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو بتایا کہ سپریم کورٹ نے کہا تھا جب وفاقی حکومت فیصلہ کرے گی تو اس کا مطلب تھا کابینہ نے فیصلہ کرنا ہے ۔ اس معاملے پر ایک سب کمیٹی بھی بنائی گئی ۔ جب عدالت کا حکم ہو تو نام ای سی ا یل میں فوری ڈال دیا جاتا ہے ۔ کابینہ نے وزیر داخلہ کو اس حوالے سے اجلاس بلانے کی تجویز پیش کی ہے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ اجلاس میں ان لوگوں کو بھی بلائیں جس کے نام ای سی ایل سے نکالے جائیں ہر شہری کا حق ہے کہ یہ وہ جاننے کہ اس کا نام ای سی ای ل میں شامل ہے کہ نہیں ۔

سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ آئندہ کسی کا نام ای سی ایل میں شامل ہوا تو اس کو 24 گھنٹے کے اندر اطلاع کر دی جائے گی ۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ جب لوگوں کو مطلع نہیں کیا جائے گا تو وہ خود کا دفاع کیسے کریں گے ۔ آج کل ای سی ایل ایک سزا ہو گئی ہے جس سے لوگوں کے رشتے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ صرف انکوائری ہونے پر نام ای سی ایل میں ڈال کر سزا دینا غلط ہے ۔

سینیٹر جاوید عباسی نے کمیٹی کو بتایا کہ ای سی ایل کو پالیسی پر ہاؤس میں بات کی تھی اس وقت کے وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا تھا ہم اس معاملے پر غور کر رہے ہیں ۔ سینیٹر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مر چکے ہیں مگر ان کے نام ای سی ایل میں ہیں ۔ سیکرٹری داخلہ نے اجلاس کو مزید بتایا تین سال کے دوران 4 ہزار سے زائد افراد کے نام ای سی ایل سے نکالے گئے ہیں کسی کا بھی نام 3 سال کے لئے ای سی ای ل میں ڈالا جاتا ہے ۔

3 سال کے بعد اس معاملے کو دوبارہ دیکھا جاتا ہے ۔بعدازاں چیئرمین کمیٹی نے 3 سال سے زائد ای سی ا یل میں موجود ناموں کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا کہ ایک کال پر کسی کا نام ای سی ایل میں شامل نہیں کیا جا سکتا ۔کمیٹی کو ڈاریکٹر بلڈنگ سی ڈی اے نے بتایا گیا کہ 41پرائویٹ ہائوسنگ سوسائٹیز ہیں جنکا این او سی سی ڈی اے کے پاس جمع ہے ،41سے زیادہ غیر قانونی ہائوسنگ سوسائٹیز بھی اسلام آباد میں موجود ہیں،16سوسائٹیز کے پلان سی ڈی اے کی اجازت سے قائم ہیں ۔

چیئرمین کمیٹی نے آئندہ میٹنگ میں سی ڈی اے ہائوسنگ سوسائٹیز کا مکمل ریکارڈ لانے کی ہدایت کی۔سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ قبضہ مافیا کے ساتھ سی ڈی اے افسران ملے ہوئے ہیں ،تجاوزات کیخلاف آپریشن میں ہم حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی سی ڈی اے کی تجاوزات کیخلاف پالیسی کو سراہتی ہے،کمیٹی چیئرمین سی ڈی اے کی کوششیوں اور کاوشوں کو سراہتی ہے،کمیٹی سی ڈی اے اور ایف آئی اے سے غیر قانونی سوسائٹیز پر ایک علیحدہ بریفنگ لے گی،پہلی پرائیویٹ ہاوسنگ سوسائٹیز کیسے شروع ہوئی اور کس قانون کی تحت بنیاد رکھی گئی،قانونی ہاوسنگ سوسائیٹیوں کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے ،مگر غیر قانونی کیخلاف کاروائی کی جائے۔

چیئرمین کمیٹی نے مزید کہا کہ ایم سی آئی اور سی ڈی اے کا عدم تعاون عوام کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں،اگلے اجلاس میں سیکرٹری خزانہ کو بلاکر پوچھتے ہیں،سی ڈی اے اور ایم سی آئی کے درمیان اختلافات کو قانونی طور پر ختم کرنے ہوںگے،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سی ڈی اے کی کارکردگی کو باریک بینی سے دیکھ رہی ہے،بائی لاء ز کب بنے اور بائی لاء میں کیا کمی بیشیاں ہیں۔

سینیٹر رحمان ملک نے ہدایت کی کہ جتنی ہاوسنگ سوسائٹیز ہیں، اگلے اجلاس میں انکے نمائندوں کو بلایا جائے۔انہوں نے کہ کہ آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے ہاوسنگ سکیموں پر انکوائری پر کمیٹی کو بریف کریں،ہر سال مار گلہ کی پہاڑوں میں آگ لگائی جاتی ہے آج تک ذمہ داروں کا تعین نہ ہوسکا۔انہوں نے کہا کہ اگر کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں سیکرٹری فنانس نہیں آتے ہم ارسٹ وارنٹ جاری کرینگے،کیا سیکرٹری فنانس پارلیمنٹ ہاوس سے بلند و مبرا ہی ۔سینیٹر جاوید عباسی نے کمیٹی کو بتایا کہ اگر سیکرٹری نہیں آ سکتا تو ایڈیشنل سیکرٹری کو قانونا آنا ہوتا ہے،سیکرٹری فنانس نے اپنے جگہ جوائنٹ سیکرٹری کو کیوں بھیجا۔