بغاوت کیس :نواز شریف کیوں نہیں آئے لاہور ہائی کورٹ

عدالت نے نواز شریف کی عدم حاضری کے باعث 12 نومبر تک کیس کی سماعت ملتوی کردی

پیر اکتوبر 21:37

بغاوت کیس :نواز شریف کیوں نہیں آئے لاہور ہائی کورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف غداری کے الزام میں بغاوت کی کارروائی کے لیے درخواست پر سماعت نواز شریف کی عدم حاضری کے باعث 12 نومبر تک کے لیے ملتوی کردی۔ لاہورہائی کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس مسعود جہانگیر پر مشتمل 3 رکنی فل بنچ نے درخواست پر سماعت کی۔

واضح رہے کہ عدالت نے سابق وزرائے اعظم کو آج تحریری جواب داخل کروانے کا حکم دے رکھا تھا۔ آج سماعت کے دوران صرف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی عدالت عالیہ میں پیش ہوئے۔ جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ 'نواز شریف کیوں نہیں آئی انہیں آنا چاہیے تھا۔

(جاری ہے)

نواز شریف کے وکیل نصیر بھٹہ نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 'آپ نے جواب کا کہا تھا، جو داخل کردیا گیا ہے۔

جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ 'دیکھیں شاہد خاقان عباسی عدالتوں کا احترام کرتے ہیں، وہ یہاں موجود ہیں۔ وکیل نے جواب دیا کہ نواز شریف آج نہیں آئے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عدالتوں کااحترام نہیں کرتے۔ جسٹس مظاہر علی نے ریمارکس دیئے کہ 'اگر نواز شریف کسی وجہ سے پیش نہیں ہوسکتے تھے تو آپ کو درخواست دینی چاہیے تھی۔

وکیل نے جواب دیا کہ 'مجھے پہلی سماعت پر تاثر ملا کہ نواز شریف کو بس ایک بار پیش ہونا ہے۔ جس پر جسٹس مظاہر نے ریمارکس دیئے کہ ٹھیک ہے آپ نے تاثر غلط لیا، مگر آئندہ پیش نہ ہونے پر درخواست دیں۔ بعدازاں عدالت عالیہ نے نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے خلاف کیس کی سماعت 12 نومبر تک ملتوی کردی۔ شہری آمنہ ملک نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے انگریزی اخبار کو دیئے گئے ایک متنازع انٹرویو کو بنیاد بناتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں استدعا کی گئی کہ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے وزارت عظمیٰ کے حلف کی پاسداری نہیں کی اس لیے دونوں کے خلاف بغاوت کی کارروائی کی جائے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف کا اپنے مذکورہ متنازع بیان میں کہنا تھا کہ 'عسکری تنظیمیں نان اسٹیٹ ایکٹرز ہیں اور ممبئی حملوں کے لیے پاکستان سے غیر ریاستی عناصر گئی'۔ سابق وزیراعظم نے انٹرویو کے دوران سوال اٹھایا تھا کہ 'کیا یہ اجازت دینی چاہیے کہ نان اسٹیٹ ایکٹرز ممبئی جا کر 150 افراد کو ہلاک کردیں، بتایا جائے ہم ممبئی حملہ کیس کا ٹرائل مکمل کیوں نہیں کرسکی ۔

نواز شریف کے اس بیان پر بھارتی میڈیا نے اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جب کہ ملکی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی سابق وزیراعظم کے بیان کی شدید مذمت کی گئی۔ نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازع بیان پر پاک فوج کی تجویز پر قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس اس وقت کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت ہوا جس میں نواز شریف کے بیان کو بے بنیاد قرار دیا گیا اور اس کی مذمت بھی کی گئی۔

نواز شریف کے بیان کے بعد شاہد خاقان عباسی نے وزیراعظم کی حیثیت سے سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی اور انٹرویو کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ نواز شریف نے متنازع انٹرویو دے کر ملک و قوم سے غداری کی جب کہ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیراعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی اس لیے دونوں کے خلاف بغاوت کی کارروائی کی جائے۔