سندھ حکومت کا آن لائن ٹیکسی سروسز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ

آن لائن ٹیکسی سروسز نے روٹ پرمٹ تو حاصل کیے لیکن صوبائی حکومت سے اجازت نہیں لی: وزیر ٹرانسپورٹ سندھ

muhammad ali محمد علی پیر اکتوبر 19:20

سندھ حکومت کا آن لائن ٹیکسی سروسز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء) سندھ حکومت کا آن لائن ٹیکسی سروسز پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ، وزیر ٹرانسپورٹ سندھ کا کہنا ہے کہ آن لائن ٹیکسی سروسز نے روٹ پرمٹ تو حاصل کیے لیکن صوبائی حکومت سے اجازت نہیں لی۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ میں ٹرانسپورٹ کے شعبہ کو مکمل طور پر تباہ کر دینے والی پیپلز پارٹی کی حکومت نے اب عوام سے سستی نجی سفری سہولتیں بھی چھیننے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزیر ٹر انسپورٹ سندھ نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے سندھ میں آن لائن ٹیکسی سروسز بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر کہتے ہیں کہ آن لائن ٹیکسی سروسز نے سندھ حکومت سے اجازت نہیں لی۔ ٹیکسی سروسز نے صرف روٹ پرمٹ حاصل کیے لیکن باقاعدہ اجازت طلب نہیں کی۔ اس حوالے سے سائن کیے گئے ایم او یو کو 3سال ہوگئے ہیں۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر اویس شاہ کہتے ہیں کہ آن لائن ٹیکسی سروسز والے حکومت سندھ کی کوئی بات نہیں مان رہے۔

گزشتہ روز آن لائن ٹیکسی سروس میں ہراسگی کا واقعہ پیش آیا تاہم کوئی ایکشن لیا گیا۔ اسی لیے اب سندھ حکومت نے آن لائن ٹیکسی سروسز کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ دو روز قبل کراچی کے علاقے شارع فیصل پر لڑکی نے چلتی گاڑی سے چھلانگ لگا دی تھی۔ متاثرہ لڑکی کا کہنا تھا کہ نجی کمپنی کی ٹیکسی کے ڈرائیور نے اسے ہراساں کرنے کوشش کی تھی جس پر اسے گاڑی سے چھلانگ لگانا پڑی۔ بعد ازاں پولیس نے مسافر لڑکی کو ہراساں کرنے کے الزام میں ڈرائیور کو گرفتار کر لیا تھا۔