حکومت اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے، شیریں مزاری

سی پیک سے متعلق پاکستان کی غیر سنجیدگی کی باتیں مضحکہ خیز ہیں، حکومت محنت کش خواتین کے حقوق کے تحفظ اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے قانون سازی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، سی پیک منصوبوں میں خواتین کی فعال شمولیت سے ہی اسے گیم چینجر بنانے کا خواب شرمندہٴ تعبیر ہو سکتا ہے، وفاقی وزیر کا ’سی پیک میں خواتین کے کردار‘ کے مونوگراف کے اجراء کے موقع پر خطاب

پیر اکتوبر 22:54

حکومت اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر عملدرآمد ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اکتوبر2018ء) وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا ہے کہ حکومت اربوں ڈالر کے چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ پر عملدرآمد کیلئے پرعزم ہے، سی پیک سے متعلق پاکستان کی غیر سنجیدگی کی باتیں مضحکہ خیز ہیں، حکومت محنت کش خواتین کے حقوق کے تحفظ اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کیلئے قانون سازی کیلئے اقدامات کر رہی ہے، سی پیک منصوبوں میں خواتین کی فعال شمولیت سے ہی اسے گیم چینجر بنانے کا خواب شرمندہٴ تعبیر ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ بات پیر کو ’سی پیک میں خواتین کے کردار‘ کے مونوگراف کے اجراء کے موقع پر پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پارلیمنٹری افیئرز میں پاکستان چائنہ انسٹیٹیوٹ کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

(جاری ہے)

وفاقی وزیر نے کہا کہ سی پیک میں خواتین کے کردار پر رپورٹ کا اجراء بروقت ہوا ہے، رپورٹ میں مستقبل میں خواتین کیلئے سی پیک میں یکساں مواقع پر جامع حقائق اور اعداد و شمار دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گھریلو اور محنت کش خواتین کیلئے محفوظ اور مناسب ماحول کی فراہمی کے مؤثر قانون سازی کی ضرورت ہے، آئی ایل او کے ساتھ اس حوالہ سے سات کنونشن پر دستخط کئے ہیں، موجودہ حکومت آئی ایل او کنونشن پر عملدرآمد سمیت محنت کش خواتین کے حقوق کے تحفظ پر قانون سازی کر رہی ہے، سابق حکومتوں نے اس حوالہ سے کوئی اقدامات نہیں کئے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو فعال کئے بغیر سی پیک کے گیم چینجر ہونے کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، خواتین کو سی پیک منصوبوں سے مستفید ہونے کیلئے فنی تربیت دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک سے متعلق پاکستان کی غیر سنجیدگی کی باتیں مضحکہ خیز ہیں، پاکستان سی پیک منصوبوں میں بہتری کیلئے پر پرعزم ہے، سی پیک نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطہ کیلئے ترقی و خوشحالی کی نوید ہے۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سیّد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک میں خواتین کی فعال اور مؤثر شراکت یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، محنت کش خواتین ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، خواتین کی سی پیک منصوبوں میں شمولیت ملکی معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے حوالہ سے اب تیزی سے پیشرفت ہو رہی ہے، سی پیک سے 70 ہزار ملازمتوں کے مواقع پیدا ہوں گے، سی پیک کے باعث شرح نمو میں بہتری آئی ہے، سی پیک اب چین اور پاکستان تک محدود نہیں، اب سی پیک میں علاقائی توسیع ہونی چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ سی پیک میں پاکستان اور چین کے بعد افغانستان کو خوش آمدید کہنا چاہئے، سی پیک میں ایران، وسط ایشیائی ریاستوں کو بھی شامل ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نومبر میں چین، افغانستان اور پاکستان کے تھنک ٹینکس کی کانفرنس منعقد ہو گی، ہم علاقائی رابطوں کی بات کر رہے ہیں۔ مشاہد حسین سیّد نے کہا کہ افغانستان میں امن ہونا چاہئے، سی پیک ترقی و خوشحالی کا ضامن ہے، سی پیک کا بہترین حصہ اب معاشی زونز کی صورت میں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ آئی ٹی، زراعت، تعلیم کے شعبوں کی ترقی سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ کو فائدہ ہو گا۔ چینی سفارتخانہ کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان یاؤ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چین کی قومی ترقی میں خواتین اہم کردار ادا کر رہی ہیں، شہروں میں زیادہ تر چینی خواتین سیاست سمیت مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر فائز ہیں، سی پیک کے تناظر میں پاکستانی خواتین کے کردار میں تبدیلی مثبت پیشرفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے اگلے مرحلہ میں 19 انڈسٹریل پارکس اور خصوصی اقتصادی زونز قائم کئے جائیں گے، خصوصی اقتصادی زون میں صنعتوں کے قیام سے مرو و خواتین استفادہ کر سکتے ہیں۔