وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کو سوات میں منعقدہ تقریب کے بعد فوجیوں کے حصار میں اپنی گاڑی تک پہنچے

مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ وزیر اعلیٰ کو میڈیا سے دور رکھنے کے لیے کیا گیا جبکہ حکومتی موقف ہے کہ وزیراعلیٰ کی طبیعت ناساز تھی

منگل اکتوبر 00:20

وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ کو سوات میں منعقدہ تقریب کے بعد فوجیوں کے ..
لاہور(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-22 اکتوبر 2018ء) : خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں 11 سال بعد فوجی آپریشن اور ایمرجنسی ختم ہو گئی اور اختیارت سول انتظامیہ کو منتقل کر دیئے گئے۔تفصیلات کے مطابق سوات میں 11سال بعد فوجی آپریشن ختم ہونے پر اختیارات سول انتظامیہ کو منتقل کیے جانے کے حوالے سے تقریب منعقد کی گئی۔ منعقدہ تقریب میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان، جی او سی ملاکنڈ ڈویڑن میجر جنرل خالد سعید اور آئی جی خیبر پختونخوا سمیت سول اور عسکری حکام نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا کہ قیام امن کے بعد پاک فوج کا سوات کی سول انتظامیہ کو اختیارات دینے سے تاریخ رقم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ 'ایک دہائی قبل اس خوبصورت وادی پر ملک دشمن عناصر نے قبضہ کر لیا تھا، دہشت گردوں نے ہمارے معصوم عوام پر جو مظالم ڈھائے میں بذات خود اان کا عینی شاہد ہوں۔

(جاری ہے)

'ان کا کہنا تھا کہ 'دہشت گردوں نے سوات کے سماجی اور معاشی نظام کو بے دردی سے تہس نہس کیا، ہمارے تدریسی ادارے تباہ کیے گئے، خواتین پر ناجائز پابندیاں لگائی گئیں اور بے گناہ لوگوں کو مارا گیا۔

'محمود خان نے کہا کہ 'دہشت گردی کی اس تاریک رات میں عوام کو زندگی میں ہی قیامت دیکھنے کو ملی، اس مشکل وقت میں پاک فوج، پولیس اور سوات کے عوام نے مل کر بیش بہا قربانیاں دیں، جبکہ عوام اور ادارے زندہ قوم بن کر دہشت گردی کے سامنے ناقابل شکست دیوار ثابت ہوئے۔واضح رہے کہ سوات 2007 میں پاکستانی حکومت کے کنٹرول سے اٴْس وقت باہر ہوگیا تھا جب کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے سابق امیر ملا فضل اللہ نے علاقے کا کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔

بعد ازاں جولائی 2009 میں ایک آپریشن کے ذریعے پاک فوج نے وادی کا کنٹرول واپس حاصل کیا، اٴْس وقت فوج کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران عسکریت پسندوں کو ختم کر دیا گیا، شدت پسندی پر آمادہ طالبان کو حراست میں لے لیا گیا جبکہ دیگر کو سوات سے فرار ہونے پر مجبور کردیا گیا۔اس موقع پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان کو طبیعت خراب ہو گئی جس کے بعد انکو فوجیوں نے حصار میں لے کر انکی گاڑی تک پہنچایا گیا۔اس موقع پر یہ بھی خبریں گردش میں تھیں کہ انکی طبیعت خراب نہیں ہوئی تھی بلکہ انکو میڈیا سے دور رکھنے کے لیے انکی طبیعت خرابی ظاہر کی گئی۔