پی اے آر سی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی منظوری کے بغیر ادارے کے رولز کو تبدیل کردیا

اہم پوسٹوں کی بندر بانٹ ، متعدد من پسند آسامیاں تخلیق کرلیں ،وزیراعظم کی کفایت شعاری مہم کے برعکس کئی کو غیر قانونی ترقیاں دے کرادارے پر کروڑوں روپے کا اضافی بوجھ ڈا ل دیا گیا

منگل نومبر 19:25

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 نومبر2018ء) پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل بورڈ نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی منظوری کے بغیر ادارے کے رولز کو ازخود تبدیل کرکے اہم پوسٹیں آپس میں تقسیم کرلیں ، متعدد پوسٹیں تخلیق جبکہ متعدد کو غیر قانونی طور پر ترقیاں دے کر ادارے پر کروڑوں روپے ماہانہ اضافی بوجھ ڈال دیا ، وزیراعظم پاکستان کی بچت سکیم کے احکامات کو ہوا میں اڑا دیا گیا۔

انتہائی معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان ایگریکلچرل بورڈ (پی اے آرسی) کا اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا جس میں اہم ترین ممبر قیصر مجید کی غیر موجودگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے بورڈ نے ازخود ادارے میں من پسند پوسٹیں تخلیق کرکے اوران کی جگہ من پسند افراد کو ہی تعینات کردیا گیا ۔ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں میرٹ کی نہ صرف دھجیاں اڑائی گئیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی منظوری کے بغیر ایک ادارے نے سیٹوں سے متعلق بندر بانٹ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مطلب کی پوسٹیں تخلیق کرکے اپ گریڈ کرنے کے لئے منظوری دیدی اور اس حوالے سے ادارے پرکروڑوں روپے ماہانہ کی بنیاد پر اضافی بوجھ پڑ گیا ہے جبکہ دوسری جانب میرٹ کے خلاف فیصلہ ہونے پر متعدد افسران نے عدالت عالیہ سے بھی رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم اس حوالے سے ان کے مایہ ناز آئینی ماہرین سے مشورے کیے جارہے ہیں ۔

(جاری ہے)

ذرائع کا کہنا ہے کہ بورڈ کے اہم ترین ممبر قیصر مجید نے گزشتہ بورڈ اجلاس میں آسامیوں کی تخلیق اور ان کی بندر بانٹ سے متعلق اعتراض کیا تھا لیکن موجود اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تو بورڈ ممبران نے ان کی شرکت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اہم فیصلے کردیئے۔واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں سادگی اور کفایت شعاری کا نہ صرف پیغام دیا تھا بلکہ ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے اخراجات کی کٹوتی کرکے نیا پاکستان میں حصہ ڈالیں لیکن پی اے آر سی نے وزیراعظم کے پیغام کی نفی کرتے ہوئے ادارے کو مزید بوجھ تلے دھنسا دیا ہے۔