ملکی معیشت کی ترقی کیلئے برآمدات کا فروغ وقت کی ضرورت ہے،زرعی پیداوار کو بڑھا ،برآمدات میں اضافہ سے فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں، وفاقی وزراء

دورہ چین کے دوران چینی قیادت کیساتھ زرعی شعبہ ،خصوصاً تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، چین کیلئے پاکستانی ٹیکسٹائل، چمڑے، سرجیکل آلات اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا،سی پیک کے دائرے کو وسعت دی گئی ہے، منصوبے کو آگے لیکر چلیں گے ، خسرو بختیار اور عبدالرزاقدائود کا پریس کانفرنس سے خطاب

بدھ نومبر 22:23

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 نومبر2018ء) وفاقی وزراء خسرو بختیاراور عبدالرزاق دائود نے کہا ہے کہ ملکی معیشت کی ترقی کیلئے برآمدات کا فروغ وقت کی ضرورت ہے،زرعی پیداوار کو بڑھا کر اور اس کی برآمدات میں اضافہ کرکے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں،وزیراعظم کی قیادت میں دورہ چین کے دوران چینی قیادت کیساتھ سی پیک میں زراعت کو شامل کرنے پر بات چیت کی گئی ہے ،زرعی شعبہ ،خصوصاً تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا ہے، چین کیلئے پاکستانی ٹیکسٹائل، چمڑے، سرجیکل آلات اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا،سی پیک کے دائرے کو وسعت دی گئی ہے، منصوبے کو آگے لیکر چلیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار بدھ کو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات خسرو بختیار اور وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت، ٹیکسٹائل، صنعت و پیداوار عبدالرزاق دائود نے پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

(جاری ہے)

وزیراعظم کے مشیر عبدالرزاق دائود نے کہا کہ ملکی معیشت کی ترقی کیلئے برآمدات کا فروغ وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار کو بڑھا کر اور اس کی برآمدات میں اضافہ کرکے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چین کے حالیہ دورہ کے دوران وزیراعظم کی قیادت میں چینی قیادت کے ساتھ سی پیک میں زراعت کو شامل کرنے پر بات چیت کی گئی ہے اور زرعی شعبہ میں خصوصاً تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ پر تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی شعبہ میں بھی تعاون کو بڑھانے اور صنعتی شعبہ میں ترقی کیلئے چین کے تجربات سے استفادہ کرنے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی و زرعی ترقی سے نہ صرف برآمدات میں اضافہ ہو گا بلکہ معیشت مزید بہتری کے راستے پر گامزن ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارا موجودہ تجارتی حجم 1.2 ارب ڈالر ہے جس میں سو فیصد اضافہ کرنے کیلئے چینی منڈیوں تک پاکستانی مصنوعات کی ڈیوٹی فری رسائی پر بات چیت ہوئی ہے اور چینی حکام سے کہا گیا ہے کہ آسیان ممالک کی طرح پاکستان کو بھی ڈیوٹی فری رسائی دی جائے جس طرح بنگلہ دیش اور دیگر آسیان ممالک کی مصنوعات کو چین کی منڈیوں میں ڈیوٹی رسائی ہے اسی طرح پاکستان کو بھی ڈیوٹی فری رسائی ملے تاکہ ہماری برآمدات بڑھے اور تجارتی خسارہ کم ہو، اس حوالہ سے ٹیرف لائنز پر بات چیت تبادلہ خیال کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری معاشی ترقی کا راز برآمدات کے اضافہ میں ہی پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک طویل المدتی 35 سال کا پروگرام ہے، شروع میں توانائی اور انفراسٹرکچر پر توجہ تھی اب سی پیک کو وسعت دے رہے ہیں اور اس میں اب زراعت کو شامل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کیلئے پاکستانی ٹیکسٹائل، چمڑے، سرجیکل آلات اور انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا، پاکستان برآمدات میں اضافہ سے ہی ترقی کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین سے کہا گیا ہے کہ وہ پاکستان میں زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرے۔ انہوں نے کہا کہ خطہ کے دیگر ممالک کی نسبت ابھی تک پاکستان میں پیداواری لاگت کم اور سستی ہے جس سے مصنوعات تیار کرکے برآمدات میں اضافہ کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں حالیہ دورہ کے بعد چین کے ساتھ برآمدات میں سو فیصد اضافہ کے امکانات روشن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان اور وزارت تجارت کو برآمدات میں اضافہ کا یہ چیلنج لینا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ مل کر مشترکہ مصنوعات تیار کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا دورہ چین کامیاب رہا ہے۔ مشیر تجارت نے کہا کہ کرنسی سواپ سمیت بعض امور فالو اپ دورے میں مزید واضح ہو جائیں گی، چینی وزیراعظم نے بھی پاکستانی برآمدات میں ایک ارب ڈالر اضافہ کا یقین دلایا ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی خسرو بختیار نے کہا کہ چین کے ساتھ غربت کے خاتمہ اور زرعی شعبہ میں تعاون کے معاہدے کئے۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے دائرے کو وسعت دی گئی ہے آئندہ ماہ پاک۔چین مشترکہ کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے چین جائونگا ۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کو مزید آگے لے کر چلیں گے، گزشتہ حکومتوں کا گوادر پر فوکس نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ چین سے صنعتی زونز کے حوالے سے مزید بات چیت ہوگی، فی الحال فیصل آباد، لاہور اور کراچی کے صنعتی علاقوں کو بطور اقتصادی زون ڈکلیئر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 16 ارب ڈالر کا کروڈ آئل درآمد کرتا ہے، ریفائنری کے قیام کے بعد درآمدی بل 7 ارب ڈالر کم ہو سکتا ہے۔