اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر پر اپنے ادارے انسانی حقوق کی رپورٹ پر عملدرآمد کیلئے عملی اقدامات کرے ،راجہ فاروق حیدر

بھارتی فوج کی جانب سے ایل او سی پر نہتے شہریوں کو مسلسل نشانہ بنانے پر سخت تشویش ہے ،وزیراعظم آزاد کشمیر

جمعرات نومبر 17:29

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 نومبر2018ء) آزادجموں وکشمیر کے وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ مقبوضہ کشمیر پر اپنے ادارے انسانی حقوق کی رپورٹ پر عملدرآمدکے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کا شکار کشمیریوں کو ریلیف ملے۔ہم اقوام متحدہ کے انسانی۔حقوق کمیشن کی رپورٹ کا خیرمقدم کرتے ہیں مگر عالمی ادارہ اپنی سفارشات پر عمل بھی کروائے۔

بھارتی فوج کنٹرول لائن پر بھی نہتے شہریوں کو مسلسل نشانہ بناتی ہے جس پر ہمیں سخت تشویش ہے۔ بھارتی فوج نے اب تک مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت ہزاروں نوجوانوں کو شہید اور لاپتہ کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں گمنام قبریں بھارتی فوج کی سفاکیت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

(جاری ہے)

بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں اپنے حق خودارادیت کیلیے نکلنے والے کشمیریوں پر پیلٹ گن کا اندھا دھند استعمال کرتی ہے جس سے اب تک کئی نوجوان مردو خواتین بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کا ادارہ برائے انسانی حقوق بھارتی فوج کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلیے مقبوضہ کشمیر میں اپنا فیکٹ فائینڈنگ مشن بھیجے۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار یورپ کیلیے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ پال ڈی اکیمب سے ملاقات کے دوران کیا۔راجہ فاروق حیدر خان نے مسٹر پال ڈی کو مسئلہ کشمیر کے بتاریخی پس منظر سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے تقسیم ہند کے اصولوں کے برخلاف مقبوضہ کشمیر پر زبردستی فوجی قبضہ کیا۔وزیراعظم۔آزادکشمیر نے انسانی حقوق کے سربراہ کو پاکستان کے ساتھ کشمیر اور کشمیریوں کے تاریخی رشتوں سے متعلق بھی بریفنگ دی اور کہا کہ بھارت کا یہ پروپیگنڈہ بالکل غلط ہے کہ کشمیر کسی بھی لحاظ سے اس کا حصہ رہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ تقسیم ہند سے بھی پہلے کشمیریوں نے الحاق پاکستان کی باقاعدہ قرارداد منظور کر کے اپنا مستقبل پاکستان کے ساتھ وابستہ کر دیا تھا۔

وزیراعظم نے انسانی حقوق کے سربراہ کو دو سطحی بریفنگ دی پہلے حصے میں کشمیر کی جدوجہد آزادی کے پس منظر جبکہ دوسرے حصے میں۔مقبوضہ جموں وکشمیر میں۔بھارتی فوج کے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارتی فوج اور شرپسند دہشت گردوں نے جموں وکشمیر میں انسانیت پر بے تحاشا مظالم ڈھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صرف جموں میںبھارتی فوج کے زیر سایہ ڈھائی لاکھ مسلمان کشمیریوں کو تہہ تیغ کیا گیا جو ہولو کاسٹ سے بھی بڑا جرم تھا۔

انہوں نے کہا بھارتی فوج اب بھی مقبوضہ کشمیر میں خون کی ہولی جاری رکھے ہوے ہے جس کے دوران نوجوانوں کو بغیر کسی وجہ کے گولی مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے،ان کی پراپرٹی کو جلا دیا جاتا ہے تلاشی اور محاصرے کی کارروائیوںکے دوران بوڑھوں ،بچوں اور خواتین سے انتہائی انسانیت سوز سلوک کیا جاتا ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی۔حقوق کے سربراہ کو مقبوضہ کشمیر میں آدھی بیوہ کی اصطلاح کے بارے میںبھی بتایا۔مسٹر پال نے بھارتی ظلم و بربریت پر تشویش کا اظہار کیا اور وزیراعظم کو تعاون کا یقین دلایا۔راٹھور