یورپی اقوام کے سامنے مسئلہ کشمیر کا مرحلہ وار چھ نکاتی فارمولہ پیش کردیا ، سردار عتیق احمد خان

مقبوضہ کشمیر کی شہری آبادی سے فوجی انخلا ء ، آبادیوں میں فوجی ایکشن پر پابندی ، سیاسی قیدیوں کی رہائی ، کالے قوانین کا خاتمہ ، عوام کے حق اجتماع ‘ پرامن احتجاج کے حق کی بحالی اور کشمیر کی مسلمہ قیادت کے بیرونی سفر پر پابندی کا خاتمہ شامل ہے ، صدر آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس

جمعرات نومبر 17:29

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 نومبر2018ء) آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے یورپی اقوام کے سامنے مسئلہ کشمیر کے مرحلہ وار حل کیلئے 6نکاتی فارمولہ پیش کردیا‘ جن میں مقبوضہ کشمیر کی شہری آبادی سے فوجی انخلا ء ، آبادیوں میں فوجی ایکشن پر پابندی ، سیاسی قیدیوں کی رہائی ، کالے قوانین کا خاتمہ ، عوام کے حق اجتماع ‘ پرامن احتجاج کے حق کی بحالی اور کشمیر کی مسلمہ قیادت کے بیرونی سفر پر پابندی کا خاتمہ شامل ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یورپی یونین اور پارلیمنٹ کے ارکان مسئلہ کشمیر کی باریکیوں اور زمینی حقائق سے بخوبی آگاہ ہیں کیونکہ یورپی پارلیمنٹ اکثر اوقات زمینی صورتحال معلوم کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر کے لئے وفود بھیجتی ہے۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے برسلز کا دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپسی پر میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ یورپی پارلیمنٹ کو مقبوضہ کشمیر کے حالات معلوم کرنے کیلئے وفود بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے جنوبی ایشیاء کے طویل تنازعہ کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے باعث ہونے والی فوجی سرگرمیوں سے خطے کا مستقبل دائو پر لگ چکا ہے ۔ معمولی سی جنگ کے باعث ہمالیاتی ریجن میں قدیم گلیشیئر پگھل کر ماحول اور انسانی حیات کو تباہی کی طرف لے جاسکتے ہیں ۔

گلیشیئر پگھلنے سے سمندروں کی سطح بلند ہوکر کئی ممالک میں تباہی کا باعث بن سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری چوتھی نسل سڑکوں پر ہے جن میں سیاست دان ، مزاحمتی کارکن ، امن کے علمبردار کارکن ، متاثرہ افراد اور بے گھر لوگ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا تھا اور اقوام متحدہ نے بھارت کی درخواست پر قراردادیں منظور کی تھیں جن میں کشمیر کا مسئلہ حق رائے دہی کے اصول کے تحت حل کرنے کی بات کی گئی ہے جب قراردادوں پر عملدرآمد کا وقت آیا تو اپنے موقف سے پھر گیا ۔

اس وقت سے مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیاء کے لئے مستقل خطرہ بن چکا ہے ۔ بھارت کشمیریوں اور عالمی برادری کی رائے کو یکسر نظر انداز کرکے خطے میں خطرات کو بڑھا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل سے پہلے مقبوضہ کشمیر میں زمین پر نظر آنے والے اقدامات اٹھانا لازمی ہیں اور یورپی پارلیمنٹ کو اس معاملے میں اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔