احسن اقبال کی حکومت کومل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی پیشکش

ہماری حکومت نے ٹیکس کو دوگنا کیا، موجود ہ حکومت بھی ٹیکس دوگنا کرے، ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے برآمدات اور درآمدات کا فرق ختم کرنا ہوگا۔مرکزی رہنماء مسلم لیگ ن احسن اقبال

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات نومبر 20:31

احسن اقبال کی حکومت کومل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی پیشکش
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔08 نومبر 2018ء) مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء احسن اقبال نے حکومت کومل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی پیشکش کردی۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہماری حکومت نے ٹیکس کو دوگنا کیا، موجود ہ حکومت بھی ٹیکس دوگنا کرے،ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے برآمدات اور درآمدات کا فرق ختم کرنا ہوگا۔انہوں نے آج یہاں قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے حکومت سے ٹیکس دوگنا کرنے کا مطالبہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ہماری برآمدات عارضی خوشی والی ہیں۔ہم نے کبھی اپنی معیشت کوبرآمدات کی پالیسی پر نہیں ڈالا۔ہم ایک دوسرے کیخلاف جھوٹی کہانیاں بیچتے ہیں۔ہمیں ایک دہائی کیلئے برآمدی پالیسی بنانا ہوگی۔اسی طرح دوسرا کام طویل المدتی منصوبہ بندی ہے۔ملک پر قرضوں کا نہیں درآمدات کا بوجھ ہے۔

(جاری ہے)

70 فیصد خام مال درآمد کیا جاتا ہے۔ جب بجلی بڑھی توایک سال کیلئے درآمدات بڑھ گئی تھیں۔

پاکستان کی برآمدی اشیاء کی عالمی منڈی میں مانگ نہیں رہی۔15سے 20ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ ملنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ وزیرخزانہ کی ضمنی بجٹ تقریر میں کچھ نظر نہیں آیا۔ترقیاتی بجٹ میں کمی سے 4ہزار لوگ بے روزگار ہوئے۔حکومت کو بجلی ، گیس، اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہمارے دور کے اچھے کاموں کی بھی تعریف کرے۔

سب کو مل بیٹھ کرمسائل کا حل نکالنا ہوگا۔ امید ہے حکومت ٹیکس نیٹ بڑھائے گی۔ہماری حکومت نے ٹیکس کو دوگنا کیا، موجود ہ حکومت بھی ٹیکس دوگنا کرے۔انہوں نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ ملک مسائل کا شکار ہے۔ہمیں ملک کو مسائل سے نکالنے کیلئے برآمدات اور درآمدات کا فرق ختم کرنا ہوگا۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان کا پانی چوری کرکے پنجاب کو دینے کے معاملہ کی تحقیقات کیلئے قومی اسمبلی کی کمیٹی بنائی جائے یا معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کرکے تحقیقات کی جائیں کہ کس کے احکامات پر یہ کام ہوا اور کمیٹی کو ایک ماہ کا وقت دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس ایوان کا تقدس برقرار رکھنے کیلئے الفاظ کا استعمال درست انداز میں کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر موصوف نے کہا کہ پانی چوری ہوا ہے میں دیانت داری کا دعویٰ نہیں کر سکتا، میں وزیراعظم رہا ہوں تحقیقات کا آغاز مجھ سے کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن چوری کرنے والے اپنی چوری پر پردہ ڈالنے کے لئے دوسروں کو چور کہہ رہے ہیں۔