پاکستان میں 14سالوں کے دوران 409 ڈرون حملوں میں 2 ہزار 714 افراد ہلاک اور 728 زخمی ہوئے. نیکٹا

زیادہ تر حملے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 2012 سے 2008 کے درمیان ہوئے. رپورٹ

Mian Nadeem میاں محمد ندیم جمعہ نومبر 09:51

پاکستان میں 14سالوں کے دوران 409 ڈرون حملوں میں 2 ہزار 714 افراد ہلاک اور ..
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔09 نومبر۔2018ء) پاکستان میں جنوری 2004 سے اب تک 409 ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں 2 ہزار 714 افراد ہلاک اور 728 افراد زخمی ہوئے. قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (نیکٹا) ذرائع نے بتا یا کہ زیادہ تر حملے پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت (2012-2008) میں ہوئے. انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس مدت میں 336 فضائی حملے ہوئے جن میں 2 ہزار 282 افراد کی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 658 افراد زخمی ہوئے.

حکام نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2010 میں ہی 117 حملے ہوئے جس کے نتیجے میں 775 افراد ہلاک اور 193 افراد زخمی ہوئے. پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت (2018-2013) کے درمیان 65 ڈرون حملے ہوئے جن میں 301 افراد ہلاک اور 70 زخمی ہوئے.

(جاری ہے)

رواں سال اب تک 2 حملے ہوچکے ہیں جن میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا. تاہم یہ بات بھی واضح رہے کہ پاکستان میں طالبان کی اعلیٰ قیادت بھی ڈرون حملے میں ہی ہلاک ہوئی تھی.

سالوں سے جاری ان حملوں نے باجوڑ، بنوں، ہنگو، خیبر، کرم، مہمند، شمالی وزیرستان، نوشکی، اورکزئی اور جنوبی وزیرستان کے علاقوں کو نشانہ بنایا. نیکٹا حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں 289 ڈرون حملوں میں 1 ہزار 651 افراد ہلاک اور 421 افراد زخمی ہوئے جبکہ جنوبی وزیرستان میں 91 حملے کیے گئے جن میں 707 افراد ہلاک اور 215 افراد زخمی ہوئے. اسی طرح کرم ایجنسی میں 13 حملے ہوئے جن میں 110 افراد ہلاک اور 32 زخمی، خیبر ایجنسی میں 5 حملوں میں 51 افراد ہلاک اور 29 زخمی، باجوڑ ایجنسی میں 4 حملوں میں 129 افراد ہلاک، ہنگو میں 2 حملوں میں 7 افراد ہلاک اور 2 زخمی، مہمند ایجنسی میں ایک حملہ ہوا جس میں 18 افراد ہلاک اور 18 زخمی جبکہ نوشکی میں بھی ایک حملہ ہوا جس میں 2 افراد ہلاک ہوئے.

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 2001 کے بعد سے 18 ہزار 850 دہشت گردی کے حملوں میں 19 ہزار 177 شہری اور حکام جاں بحق اور47 ہزار 869 افراد زخمی ہوئے. دہشت گردی کے حملوں، جن میں بم دھماکے، دستی بم حملہ، سڑک کنارے نصب بم دھماکے، میزائل، راکٹس اور خودکش حملے شامل ہیں، میں زیادہ تر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا‘دہشت گردوں نے فرقہ واریت پھیلانے کے لیے اقلیتوں کو بھی نشانہ بنایا.

رواں سال ملک بھر میں دہشت گردی کے 405 حملے ہوئے جن مین 133 حکام اور 233 شہری شہید ہوئے اور 348 حکام اور 567 زخمی ہوئے. پنجاب میں 14 بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 6 اہلکار ہلاک اور کئی شہری جاں بحق جبکہ 4 حکام اور 52 شہری زخمی ہوئے. سندھ میں 11 واقعات رونما ہوئے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 2 اہلکار اور کئی شہری شہید ہوئے جبکہ 8 حکام اور 6 شہری زخمی ہوئے.

خیبر پختونخوا میں رواں سال 51 واقعات پیش آئے جن میں 21 حکام اور 11 شہری شہید اور 55 حکام اور 57 شہری زخمی ہوئے. بلوچستان میں 172 حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں 58 حکام اور 193 شہری شہید ہوئے اور 166 حکام اور 396 شہری زخمی ہوئے. فاٹا میں رواں سال 150 حملوں میں 42 حکام اور 21 شہری شہید اور 110 حکام اور 52 شہری زخمی ہوئے. گلگت بلتستان میں بھی 6 ناخوشگوار واقعات رونما ہوئے جن میں 4 حکام شہید اور 4 حکام سمیت کئی شہری زخمی ہوئے. رواں سال آزاد کشمیر میں صرف ایک سڑک کنارے نصب بم حملے کا واقعہ پیش آیا جس میں نتیجے میں ایک حکام زخمی ہوا. خوش قسمتی سے پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد رواں سال محفوظ رہا ہے.