فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنس؛ نواز شریف کی مشکلات میں اضافہ

احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنس میں نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دے دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ نومبر 11:34

فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنس؛ نواز شریف کی مشکلات میں اضافہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 نومبر2018ء) احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف فلیگ شپ انویسمنٹ ریفرنس میں نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دے دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب کی جانب سے نئی دستاویزات پیش کرنے سے متعلق درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے نیب کی درخواست منظور کر لی۔

فاضل جج نے نیب کو نئی دستاویزات پیش کرنے کی اجازت دی۔اس سے قبل دلائل کے دوران خواجہ حارث نے نیب کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یو کے سنٹرل اتھارٹی کے ساتھ خط و کتابت نیب کے ظاہر شاہ نے کی تھی اور وہ عدالت میں گواہ کے طور پر پیش ہو چکے ہیں۔خواجہ حارث نے سوال اٹھایا کہ ظاہر شاہ کی گواہی کے ساتھ یہ دستاویزات کیوں پیش نہ کی گئیں۔

(جاری ہے)

ڈپٹی پراسیکوٹر نیب سردار مظفر عباسی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے ضمنی ریفرنس میں لکھا ہے کہ خطوط کا جواب آنے پر دستاویزات پیش کرتے ہیں تو ساتھ متعلقہ گواہ بھی پیش کریں۔عدالت نے ریمارکس دئیے ان دستاویزات سے فلیگ شپ کے تفتیشی کا کیا تعلق ہے یہ نیب نے نہیں بتایا۔دستاویزات کے ساتھ تفتیشی افسر کا تعلق عدالت خود فرض نہیں کر سکتی۔فاضل جج نے استفسار کیا کہ 8ماہ کی تاخیر سے کیوں یہ دستاویزات پیش کی جا رہی ہیں۔

خیال رہے بدھ کو احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے سماعت کی تو اس موقع پر سابق وزیر اعظم محمدنواز شریف عدالت میں پیش ہوئے ۔ عدالت میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی،سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق ، راجہ ظفر الحق، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، مریم اورنگزیب ، طارق فاطمی اور آصف کرمانی ،سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا اقبال، سابق گورنر کے پی کے سردار مہتاب عباسی بھی موجود تھے۔

سماعت کے دوران محمد نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے معاون وکیل زبیر خالد کی موجودگی میں نیب کے تفتیشی افسر محمد کامران نے بیان قلمبند کروایا۔ تفتیشی آفسیر نے بتایا کہ ایم ایل اے کے فالو اپ کیلئے برطانیہ گیا،کمپنیز ہاؤس لندن میں حسن نواز کی کمپنیوں کے ریکارڈ کے حصول کیلئے درخواست دی، ریکارڈکی فراہمی کیلئے ادا کی گئی فیس ضمنی ریفرنس کا حصہ ہے، کمپنیز ہاؤس میں حسن نواز کی 10کمپنیوں کے ریکارڈ کیلئے درخواست دی۔

تفتیشی آفسیر نے حسن نواز کی کمپنیوں کی ملکیتی جائیداد کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں۔تفتیشی آفسیر نے بتایا کہ حسن نواز کی 18کمپنیوں کے نام 17 فلیٹس اور پراپرٹیز ہیں۔ دوران سماعت محمد نوازشریف کے وکیل نے تفتیشی افسر کی طرف سے پیش کی گئی تفصیلات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تفتیشی افسر کی پیش کی گئی تفصیلات قانون شہادت کے تحت قابل قبول شہادت نہیں۔

تفتیشی آفسیر نے بتایا کہ 11کمپنیز ہاؤس اور ایچ ایم لینڈ رجسٹری کو متعلقہ ریکارڈ فراہم کرنے کی درخواست کی،درخواست پر اپنا ایڈریس پاکستانی ہائی کمیشن لندن کا دیا،ٹیلی فون کے ذریعے متعلقہ محکموں سے ریکارڈ کے حصول کے لیے پیروی کی، 24اگست 2017 کو ڈائریکٹر نیب راولپنڈی کے ساتھ پاکستانی ہائی کمیشن لندن گیا،کونسل اسسٹنٹ زکی الدین نے راؤ عبدالحنان کے دفتر سے 12 سر بمہر لفافے لا کر دیے،راؤ عبدالحنان پاکستانی ہائی کمیشن میں بطور ویزہ اور کونسل اتاشی فرائض سر انجام دے رہے تھے، ریکارڈ پر مشتمل 12 سربمہر لفافے وصول کیے، ذکی الدین اور فرد مقبوضگی کے گواہوں کا دفعہ 161کا بیان ریکارڈ کیا۔

عدالت نے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کو جانے کی اجازت دے دی ۔تفتیشی آفسیر نے بتایا کہ کمپنیز ہاؤس سے بھیجے گئے لفافے ویزا اتاشی کے دفتر میں کھولے،راؤ عبدالحنان نے بتایا کہ دستاویزات کی پہلے نوٹری پبلک اور فارم اور کامن ویلتھ سے تصدیق کرانا ضروری ہے،راؤ عبدالحنان نے دستاویزات اسی دن واپس کر دیں۔ تفتیشی آفیسر نے کہا کہ دستاویزات کی تصدیق کے بعد واپس ہائی کمیشن گیا،راؤ عبدالحنان نے دستاویزات تصدیق کے بعد واپس لٹا دیں، تصدیق کے بعد راؤ عبدالحنان کا بیان قلمبند کیا۔