سینیٹ انتخابات، مسلم لیگ ن سینیٹ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے متحرک ہو گئی

مسلم لیگ ن کو سینیٹ انتخابات میں ٹف ٹائم ملنے کا خدشہ، مسلم لیگ ن نے حکمت عملی بھی ترتیب دے دی

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ نومبر 14:10

سینیٹ انتخابات، مسلم لیگ ن سینیٹ نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لیے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 09 ستمبر 2018ء) : مسلم لیگ ن کو عام انتخابات 2018ء میں زبردست شکست کا سامنا ہوا جس کے بعد مسلم لیگ ن کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ۔ مسلم لیگ ن نے عام انتخابات کے بعد سینیٹ انتخابات میں حصہ لیا لیکن وہاں بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم اب نومبر میں ہونے والے سینیٹ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسلم لیگ ن نے سر توڑ کوششیں شروع کر دی ہیں اور ہر حال میں سینیٹ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی جماعت کو بھی متحرک ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔

سینیٹ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر مسلم لیگ ن کو ٹف ٹائم ملنے کا امکان ہے جس کے پیش نظر مسلم لیگ ن میں یہ بحث کی جا رہی ہے کہ سینیٹ انتخاب جیتنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف میں کس طرح دراڑ ڈالی جائے اور کس طرح آزاد اراکین اسمبلی کو اپنے ساتھ ملا کر ان کا ووٹ حاصل کیا جائے، اس حوالے سے مسلم لیگ ن نے کئی حلقوں سے روابط کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔

(جاری ہے)

مسلم لیگ ن نے سینیٹ انتخاب جیتنے کے لیے پیسے کے استعمال سے لے کر ہر سطح تک جانے کے لیے کوششیں شروع ہو گئی ہیں۔ جبکہ اس حوالے سے مسلم لیگ ن کی جانب سے جنوبی پنجاب میں زیادہ کام کیا جا رہا ہے اور جنوبی پنجاب کے لوگوں کو ہی اعتماد میں لے کر ان کا ووٹ حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق سعود مجید کو ٹکٹ بھی اسی لیے دیا گیا تھا کہ وہ جنوبی پنجاب میں دڑار ڈالیں جبکہ اس حوالے سے مسلم لیگ ن نے ایک سابق گورنر کو بھی متحرک کر رکھا ہے ۔

ذرائع کے مطابق ن لیگی قیادت خود بھی ان اراکین اسمبلی سے مل رہی ہے جن سے پہلے ملنا گوارا نہیں کرتی تھی۔ کچھ ذرائع نے انکشاف کیا کہ حکومتی اتحاد میں دراڑیں ڈالنے کے لیے ن لیگ کے تین اہم ذمہ داران حکومتی جماعت کے مختلف اراکین سے رابطوں کی کوشش کر رہے ہیں ۔دوسری جانب حکومتی اتحاد کی طرف سے اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی ، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار اور جہانگیر ترین انتہائی متحرک ہو چکے ہیں۔

جہاں مسلم لیگ ن سینیٹ انتخاب میں اپنی جیت کا دعویٰ کر رہی ہے وہیں حکومتی اتحاد بھی پہلے سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے پُر اُمید ہے ۔ ذرائع کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے اس ضمن میں کئی اہم ملاقاتیں بھی کیں اور کئی اپوزیشن کے اراکین اسمبلی نے انہیں ووٹ دینے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے ۔ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی عام ہیں کہ پنجاب کی نشستوں پر نومبر میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ ن کو ایک مرتبہ پھر سے ٹف ٹائم کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

جس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب میں 15 نومبر کو ہونے والے سینٹ کے ضمنی الیکشن میں ووٹ کی شرح کے بجائے سادہ اکثریت سے فیصلہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو دونوں نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ جبکہ پاکستان تحریک انصاف کی سینیٹ انتخابات میں کامیابی کا قوی امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی پنجاب میں کئی مزید نشستوں پرکامیابی بھی اسے سینٹ میں اکثریت نہیں دلوا سکے گی۔ ذرائع کے مطابق بظاہرعددی اکثریت سے پاکستان تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کا پلڑا بھاری ہے جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سینیٹ انتخاب میں اتحاد کر کے بھی اپنے اُمیدواروں کو نہیں جتوا سکتیں۔