ن لیگ کی تنظیم سازی کی کمیٹی میں مریم نواز کا نام شامل نہیں

مسلم لیگ ن نے پارٹی کی تنظیم سازی کیلئے کمیٹی تشکیل دی ہے، کمیٹی کی سربراہی احسن اقبال کریں، ذرائع

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ نومبر 14:21

ن لیگ کی تنظیم سازی کی کمیٹی میں مریم نواز کا نام شامل نہیں
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 نومبر 2018ء) مسلم لیگ ن کی تنظیم سازی کیلئے قائم کمیٹی میں مریم نواز کا نام شامل نہیں، مریم نواز پارٹی کی متحرک رہنماء اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی صاحبزادی ہیں، مریم نوازکی سیاسی معاملات سے دوری پرپارٹی کارکنان تشویش میں مبتلا ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم لیگ ن نے پارٹی کی تنظیم سازی کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے، کمیٹی کی سربراہی احسن اقبال کریں گے، 18رکنی کمیٹی میں مریم نوازکا نام شامل نہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مریم نوازابھی سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں کریں گی، مریم نوازاپنی والدہ بیگم کلثوم نوازکی وفات کے باعث تاحال صدمے سے نہیں نکل سکیں۔ تاہم سابق وزیراعظم نوازشریف کی ہدایت پر مریم نوازجلد سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیں گی۔

(جاری ہے)

واضح رہے مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف کی ہدایت پر صدر ن لیگ شہبازشریف نے پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے میں نظر ثانی کیلئے سنٹرل آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔

صدر ن لیگ شہبازشریف نے 18رکنی کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔ سنٹرل آرگنائزنگ کمیٹی کا مقصد پارٹی کو گراس روٹ لیول پر متحرک اور پارٹی کی تنظیم نو کرنا ہے۔ سنٹرل آرگنائزنگ کمیٹی پارٹی کو مزید مستحکم اور فعال بنانے کیلئے سفارشات بھی مرتب کرے گی۔ مرکزی آگنائزنگ کمیٹی پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے اور استعداد کار کا بھی جائزہ لے گی۔

مسلم لیگ ن کی 18رکنی کمیٹی کیلئے مرکزی رہنماء احسن اقبال کو کنونیئر مقرر کیا گیا ہے۔ کمیٹی میں حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، خواجہ آصف ، رانا ثناء اللہ ، نزہت صادق، جاوید مرتضیٰ عباسی، امیر مقام،سردار اویس لغاری، رانا تنویراور عطاء اللہ تارڑ سمیت دیگر رہنماء شامل ہیں۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھائی شہباز شریف سے نیب سب جیل میں ملاقات کی جس میں ملک کی سیاسی صورتحال، نیب کیسز، پارٹی امور اور آئندہ کی حکمت عملی پر مشاورت کی گئی، اس کے علاوہ ملاقات میں قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق حکمت عملی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سے رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یاد رہے کہ شہباز شریف گزشتہ ایک ماہ سے قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کی تحویل میں ہیں اور ان دنوں راہداری ریمانڈ پر اسلام آباد کی نیب سب جیل میں قید ہیں۔شہباز شریف کو نیب نے 5 اکتوبر کو صاف پانی کیس میں پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا جس کے بعد انہیں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کیا۔ ذرائع کے مطابق نیب کی جانب سے شہباز شریف پر چار الزامات عائد کیے گئے ہیں، ان پر الزام ہے کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے آشیانہ اسکیم کا پروجیکٹ پی ایل ڈی سی سے ایل ڈی اے کو منتقل کیا۔

دوسرا الزام ہے کہ ایل ڈی اے سے دوبارہ پی ایل ڈی سی کو منتقل کرنے کے غیر قانونی احکامات دیئے۔تیسرا الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے اس پروجیکٹ کو پیراگون کو منتقل کرنے کا حکم دیا، پھر غیر قانونی احکامات کے ذریعے پی پی پی (پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ) موڈ میں رکھ دیا۔شہباز شریف پر چوتھا الزام عائد کیا گیا کہ وہ غیر قانونی طور پر بورڈ کے معاملات میں مخل ہوئے اور قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اقدامات کیے، انہوں نے 2013 میں لطیف سنز کے ساتھ معاہدے کو غیر قانونی طور پر منسوخ کیا۔