ڈی جی کی جعلی ڈگری کا معاملہ متعلقہ پلیٹ فارم پر اٹھنا چاہیے،مشاہد اللہ

ایچ ای سی نے کہا کہ ڈی جی نیب کی ڈگری کو غلطی سے ویریفائی کیا، اگر محتسب کی ڈگری ہی جعلی ہو گی تو اس کا احتساب کیسے اصلی ہو گا۔ ن لیگی رہنماء سینیٹر مشاہد اللہ کی میڈیا سے گفتگو

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ نومبر 14:36

ڈی جی کی جعلی ڈگری کا معاملہ متعلقہ پلیٹ فارم پر اٹھنا چاہیے،مشاہد ..
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 نومبر 2018ء) مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خاں  نے کہا ہے کہ ڈی جی نیب کی جعلی ڈگری کا معاملہ متعلقہ پلیٹ فارم پر اٹھنا چاہیے، ایچ ای سی نے کہا کہ ڈگری کو غلطی سے ویریفائی کیا، اگر محتسب کی ڈگری ہی جعلی ہو گی تو اس کا احتساب کیسے اصلی ہو گا۔ سینیٹر مشاہد اللہ نے ڈی جی نیب لاہور کے انٹرویو بارے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ہم سمجھتے تھے کہ نیب آئین اور قانون کےمطابق کردار ادا کرے گا۔

وزیراعظم نے باربارکہا جس پر یقین نہیں تھا کہ حکومت کا نیب پرتسلط ہوسکتا ہے۔ ڈی جی نیب کے انٹرویو سے یقین ہو گیا حکومت کا نیب پہ تسلط ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ نیب صرف سیاسی انتقام اور ن لیگ کیخلاف کارروائیاں کرنے کیلئے ہے۔

(جاری ہے)

سب کا احتساب نہیں صرف عملی طور پر ن لیگ کا احتساب ہو رہا ہے۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اگر محتسب کی ڈگری ہی جعلی ہو گی تو اس کا احتساب کیسے اصلی ہو گا۔

ایچ ای سی نے کہا کہ ڈگری کو غلطی سے ویریفائی کیا۔ ڈی جی نیب لاہور کی جعلی ڈگری کا معاملہ متعلقہ پلیٹ فارم پہ اٹھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کل کے انٹرویو کے بعد نیب اثر کھو چکا ہے۔ چیئرمین نیب کو چاہیے کہ ڈی جی نیب کےانٹرویو کا فوری نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ اب نیب کے فیصلوں کی رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی ہے۔ ڈی جی نیب نے بھونڈے انداز میں موقف بیان کر کے نیب کو مزید متنازع بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈی جی کا حق ہی نہیں تھا کہ ٹی وی انٹرویوز دیں۔ چیئرمین نیب کو ڈی جی کیخلاف کارروائی کرنی چاہیے۔ ورنہ ان پربھی انگلیاں اٹھیں گی۔ مشاہد اللہ خاں نے کہا کہ انکوائریوں پر ن لیگ کے لوگ اندر اور جن کیخلاف ریفرنسز وہ حکومت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا ایجنڈا سمجھ آ رہا ہے کیونکہ نیب نے اس ملک کے محسنوں کو جیلوں میں ڈالا ہے۔