سندھ حکومت کا محکمہ جیل کی ابتر کارکردگی کا اعتراف

معاشرے میں مجرمانہ سرگرمیوں کا رجحان بڑھنے سے جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، رپورٹ

جمعہ نومبر 15:11

سندھ حکومت کا محکمہ جیل کی ابتر کارکردگی کا اعتراف
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 نومبر2018ء) محکمہ جیل خانہ جات حکومت سندھ نے سندھ میں جیلوں کی ابتر صورتحال کا اعتراف کیاہے، 2400 قیدیوں کی گنجائش والی جیل میں4ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق سندھ اسمبلی میں پیش کرنے کے لیے محکمہ جیل خانہ جات کی کارکردگی رپورٹ تیار کرلی گئی ہے۔ جس میں محکمہ جیل کی ابتر کارکردگی کا اعتراف کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ معاشرے میں مجرمانہ سرگرمیوں کا رجحان بڑھاہے اور ہرسال جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، سینٹرل جیل کراچی کی گنجائش 2400 جب کہ قیدی 4 ہزار 846 ہیں، اسی طرح ملیر جیل میں بھی گنجائش سے 3 ہزار 449 قیدی زیادہ ہیں۔ کراچی کے ہر ضلع میں ڈسٹرکٹ جیل کی ضرورت ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتہائی خطرناک قیدیوں کے لیے ہائی سیکیورٹی جیل کی تعمیر بھی التوا کا شکار ہے، محکمہ داخلہ سندھ نے ایک ہزار انتہائی خطرناک قیدیوں کو رکھنے کے لیے ہائی سیکیورٹی جیل کی تعمیر کے لیے 300 ایکڑ زمین کے لیے سندھ بورڈ آف ریونیو کو 2017 میں درخواست دی تھی لیکن ایس بی آر نے ہائی سیکیورٹی جیل کے لیے متعلقہ زمین منتقل نہیں کی۔

(جاری ہے)

خیال رہے کہ جیلوں کی ابتر صورتحال سے متعلق کیس سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت ہے۔ ایک سماعت کے دوران نمائندہ محتسب نے عدالت کو بتایا تھا کہ پاکستان میں 98 جیلیں ہیں۔ جیلوں میں 56 ہزار سے زائد قیدیوں کی گنجائش ہے جبکہ 78 ہزار 1 سو 60 قیدی جیلوں میں موجود ہیں۔عدالت نے وفاقی محتسب سے جیل کی بہتری کے لیے تجاویز بھی طلب کی تھیں جس کے لیے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ دی گئی تجاویز اور سفارشات پر عملدر آمد کروانا چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کی ذمہ داری ہے۔