چیف جسٹس اہل خانہ کی نصحیت پر عمل کرنے پر مجبور

چیف جسٹس کا اہل خانہ کے اصرار پر اتوار تک آرام کرنے کا فیصلہ، کامیاب انجیو پلاسٹی کے بعد ڈاکٹروں کے آرام کے مشورے کے باوجود چیف جسٹس دفتری امور انجام دے رہے تھے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان جمعہ نومبر 15:13

چیف جسٹس اہل خانہ کی نصحیت پر عمل کرنے پر مجبور
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔09 نومبر 2018ء) :چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کامیاب انجیو پلاسٹی کے بعد ڈاکٹروں کے آرام کے مشورے کے باوجود چیف جسٹس دفتری امور انجام دے رہے تھے تاہم اب انہوں نے آرام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔قومی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار اسلام آباد سے لاہور روانہ ہو گئے ہیں۔

چیف جسٹس اتوار تک لاہور میں ہی قیام کریں گے۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس نے لاہور روانگی کا فیصلہ گھر والوں کے اصرار پر کیا۔کیونکہ ڈاکٹروں کے آرام کے مشورے کے باوجود بھی چیف جسٹس دفتری امور انجام دے رہے تھے۔فیملی ذرائع کے مطابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اب لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت نہیں کریں گے۔تاہم آئندہ پیر سے مقدمات کی سماعت کریں گے۔

(جاری ہے)

یاد رہے چیف جسٹس ثاقب نثار کو سینے میں تکلیف کے بعد راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کیا گیا جہاں ان کی انجیوپلاسٹی کی گئی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار آج اپنی رہائش گاہ میں موجود تھے کہ ان کی طبیعت اچانک ناساز ہو گئی۔ ان کے سینے میں ہونے والے درد نے انک ی حالت کو پریشان کُن حد تک متاثر کیا۔طبیعت کے بگڑنے کے بعد ان کو راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں منتقل کر دیا گیا جہاں ڈاکٹرز کی ٹیم نے ان کا طبی معائنہ کیا جس کے نتیجے میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی انجیو پلاسٹی کا فیصلہ کیا گیا۔

چیف جسٹس ثاقب نثارکی راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ہی انجیوپلاسٹی کی گئی ۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ۔جس کے بعد آج ان کی طبیعت بہتر ہونے کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار سے اسپتال سے روانگی کے موقع پر صحافیوں نے ان کی خیریت دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ میری طبیعت اب بہتر ہے،میں کل سے عدالت جاؤں گا۔ سپریم کورٹ کے ججز اور وکلا نے چیف جسٹس کی جلد صحتیابی کی دعا کی تھی۔