چیئرمین نیب کا ڈی جی شہزادسلیم کے انٹرویو کا نوٹس

کاروائی کیلئے پیمرا سے ڈی جی نیب کی میڈیا ٹاک کا ریکارڈ طلب، نیب کیلئے تمام ارکان اسمبلی قابل احترام ہیں۔چیئرمین نیب جسٹس(ر)جاوید اقبال

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ نومبر 16:51

چیئرمین نیب کا ڈی جی شہزادسلیم کے انٹرویو کا نوٹس
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 نومبر 2018ء) چیئرمین نیب نے ڈی جی شہزاد سلیم کے متنازع انٹرویو کا نوٹس لے لیا، جسٹس ر جاوید اقبال نے پیمرا سے ڈی جی نیب کی میڈیا ٹاک کا ریکارڈ طلب کرلیا ہے، نیب کیلئے تمام ارکان اسمبلی قابل احترام ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی جی نیب لاہور کے متنازع انٹرویو پر جہاں اپوزیشن جماعتوں نے شور مچایا اور ان کیخلاف قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کروائی۔

وہاں چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے بھی ڈی جی نیب لاہورکی جعلی ڈگری کی سماعت کیلئے بنچ تشکیل دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا بنچ 12نومبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔ اسی طرح ڈی جی نیب کے انٹرویو پر اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات کے باعث چیئرمین نیب نے نوٹس لے لیا ہے۔

(جاری ہے)

چیئرمین نیب کا کہنا ہے کہ نیب تمام ارکان اسمبلی کا احترام کرتا ہے۔ چیئرمین نیب نے پیمر اسے ڈی جی نیب کی میڈیا ٹاک کاریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

اعلامیہ نیب کے مطابق ڈی جی نیب لاہور کیخلاف میڈیا ٹاک کی روشنی میں کاروائی کریں گے۔ میڈیا ٹاک میں دیکھا جائے گا کہ ارکان اسمبلی کا استحقاق مجروح ہوا ہے یا پھر الزام تراشی کی جارہی ہے۔ واضح رہے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے متنازع انٹرویو کیخلاف اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کروا دی ہے۔ تحریک استحقاق کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی نیب نے ارکان اسمبلی کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش کی۔

ڈی جی نیب نے اپوزیشن ارکان کا میڈیا ٹرائل کیا۔ ڈی جی نیب نے خفیہ تحقیقات اور دستاویزات میڈیا پر دکھائیں۔ ڈی جی نیب نے چیئرمین نیب کی منشاء سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ڈی جی نیب کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ آج ملکی سیاست یہ ہے بولوگے توکیس بنے گا، نیب کا کالا قانون ختم ہونا چاہیے، نیب نے میڈیا ٹرائل کرنا توہمیں بھی سامنے بٹھا لے، چیئرمین نیب رابطہ کرلیں تومیں میگاکرپشن کے 2 کیسز ان کے حوالے کروں گا،ڈی جی نیب اپنی ڈگری پریس کے حوالے کریں تاکہ تصدیق ہوسکے،احتساب سے نہیں گھبراتے،ترازوایک ہونا چاہیے۔

انہوں نے آج یہاں مریم اورنگزیب اور رانا تنویر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ نیب کالا قانون ہے ، آمر نے بنایا تھا، نیب کے کالے قانون کوختم ہونا چاہیے۔تمام سیاسی جماعتوں کو ملکر نیب کے کالے قانون کو ختم کرنا ہوگا۔ سیاست کو کنٹرول کرنے کیلئے نیب کو استعمال کیا جارہا ہے۔ملکی سیاست یہ ہے اگر بولو گے توکیس بنے گا۔نیب اپوزیشن کیخلاف نام نہاد کیس بنا رہا ہے۔

عدالت کا حکم ہے کہ کسی کی پگڑی نہ اچھالی جائے، لیکن نیب آج لوگوں کی پگڑیاں اچھال رہا ہے۔چیف جسٹس کا حکم موجو د ہے کہ زیرسماعت کیسز پر بات نہ کی جائے لیکن ایک سرکاری افسر جوحکومت سے تنخواہ لیتا ہے وہ آتا ہے اور بے بنیاد میڈیا ٹرائل شروع کردیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب رابطہ کرلیں تومیں 2کیسز ان کے حوالے کروں گا۔ایک 750ملین کا کیس ہے ، دوسرا12ارب ڈالر کے نقصان کا رکوڈیک کیس ہے۔