بلاول بھٹو نے چیئرمین پی اے سی کا عہدہ لینے سے معذرت کرلی

وزیراعظم نے اپوزیشن کی جانب سے خواجہ آصف کا نام مسترد کرکے بلاول بھٹوکو چیئرمین پی اے سی کی پیشکش کی تھی، ذرائع

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ نومبر 17:45

بلاول بھٹو نے چیئرمین پی اے سی کا عہدہ لینے سے معذرت کرلی
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔09 نومبر 2018ء) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے چیئرمین پی اے سی کا عہدہ لینے سے معذرت کرلی، وزیراعظم نے اپوزیشن کی جانب سے خواجہ آصف کا نام مسترد کرکے بلاول بھٹوکو چیئرمین پی اے سی کی پیشکش کی تھی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف کا نام بطور چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مسترد کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے دونام پارلیمانی کمیٹی کو دیے تھے۔

تاہم آج جب وزیراعظم عمران خان کو پی اے سی کی سربراہی کیلئے بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ اپوزیشن کی جانب سے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اور مسلم لیگ ن کے خواجہ آصف کا نام آیا ہے۔ ان ناموں سمیت دیگر ناموں پر مشاورت کی جارہی ہے۔

(جاری ہے)

عمران خان نے خواجہ آصف کا نام سامنے آتے ہی مسترد کردیا۔ انہوں نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف منی لانڈنگ میں ملوث ہیں ان کو کیسے پی اے سی کمیٹی کا چیئرمین بنایا جاسکتا ہے؟ ان کے نام پر مشاورت ہی کیوں کی گئی ہے؟ انہوں نے کہا کہ خواجہ آصف کے نام پر مشاورت بھی نہ کی جائے۔

لیکن حکومت نے چیئرمین پی اے سی کیلئے بلاول بھٹو کو آفر کی تھی جس پر بلاول بھٹو نے معذرت کرلی ہے۔ دوسری جانب قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے ڈی جی نیب لاہورکے متنازع انٹرویو کیخلاف تحریک استحقاق جمع کرا دی ہے، اپوزیشن نے ایوان سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی جی نیب کیخلاف کاروائی کی جائے، ڈی جی نیب نے خفیہ تحقیقات اور دستاویزات میڈیا پر دکھائیں،ڈی جی نیب نے چیئرمین نیب کی منشاء سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم کے متنازع انٹرویو کیخلاف اپوزیشن جماعتوں نے قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق جمع کروا دی ہے۔ تحریک استحقاق کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈی جی نیب نے ارکان اسمبلی کی ساکھ مجروح کرنے کی کوشش کی۔ ڈی جی نیب نے اپوزیشن ارکان کا میڈیا ٹرائل کیا۔ ڈی جی نیب نے خفیہ تحقیقات اور دستاویزات میڈیا پر دکھائیں۔

ڈی جی نیب نے چیئرمین نیب کی منشاء سے ٹی وی چینلز کو انٹرویو دیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے ڈی جی نیب کیخلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد اللہ خاں  نے کہا کہ ہم سمجھتے تھے کہ نیب آئین اور قانون کےمطابق کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم نے باربارکہا جس پر یقین نہیں تھا کہ حکومت کا نیب پرتسلط ہوسکتا ہے۔ ڈی جی نیب کے انٹرویو سے یقین ہو گیا حکومت کا نیب پہ تسلط ہے۔

تمام اپوزیشن جماعتوں کے خلاف بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں۔ نیب صرف سیاسی انتقام اور ن لیگ کیخلاف کارروائیاں کرنے کیلئے ہے۔ سب کا احتساب نہیں صرف عملی طور پر ن لیگ کا احتساب ہو رہا ہے۔ مشاہد اللہ خان نے کہا کہ اگر محتسب کی ڈگری ہی جعلی ہو گی تو اس کا احتساب کیسے اصلی ہو گا۔ ایچ ای سی نے کہا کہ ڈگری کو غلطی سے ویریفائی کیا۔ ڈی جی نیب لاہور کی جعلی ڈگری کا معاملہ متعلقہ پلیٹ فارم پہ اٹھنا چاہیے۔