سینیٹ کا حکومت سے یوم اقبالؒ کے دن سرکاری چھٹی کا مطالبہ کردیا، حکومت دن کو سرکاری طور پر منانے کیلئے اقدامات کرے ، چیئرمین سینیٹ کی ہدایت

یوم اقبال کو سکولوں میں پڑھانے پر سب کا اتفاق ہیںجن معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا اس پر تو نہیں لیا گیا، شیری رحمن،ہمیں عملیت پسند بننا پڑیگا، عتیق شیخ چھٹی کیوں ختم کی گئی اس کا روز قیامت جواب دینا پڑیگا،رانا مقبول/ قوم اقبال کو بھلابیٹھی ہے، مشاہد اللہ/ ہر باطل کے آگے کلمہ حق بلند کرنا اقبال کی فکر ہے،انوارالحق علامہ اقبال ؒنے دین و مذہب میں میانہ روی پر زور دیا، چھٹی پر اعتراض نہیں، اپوزیشن کی رضا مندی ضروری ہے،وزیر مملکت علی محمد کا سینیٹ میں اظہار خیال

جمعہ نومبر 18:54

سینیٹ کا حکومت سے یوم اقبالؒ کے دن سرکاری چھٹی کا مطالبہ کردیا، حکومت ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 نومبر2018ء) اراکین سینیٹ نے حکومت سے 9نومبر کو مفکر پاکستان و شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کی یوم پیدائش کے دن سرکاری چھٹی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاعر مشرق کی تعلیمات اور افکار پر عمل کرتے ہوئے ہم ملک کو ترقی و عروج کی منزل تک پہنچا سکتے ہیں،اس دن کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس دن چھٹی ضروری ہے،چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی نے حکومت کو9 نومبر کو علامہ محمد اقبالؒ کے یوم پیدائش پرسرکاری چھٹی کرنے اور دن کو سرکاری طور پر منانے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مفکر پاکستان کی فلسفے اور افکار کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میںمنعقد ہوا۔

(جاری ہے)

اجلاس میںیوم اقبال کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے اراکین سینیٹ نے علامہ محمد اقبال کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کہا کہ علامہ اقبال کے افکار قرآنی تعلیمات کے مطابق ہیں، قرآن میانہ روی کا درس دیتا ہے، علامہ اقبال ؒبھی دین و مذہب میں میانہ روی پر زور دیتے تھے ،حکومت یوم اقبال کی اہمیت کو سمجھتی ہے، اس دن چھٹی کرنے میں کوئی حرج نہیں مگر اس کیلئے اپوزیشن کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کی فکر سے بچوں کو روشاس کرایا جائے ،سکولوں میں علامہ اقبالؒ کے اافکار پڑھانے کیلئے اپوزیشن کو اعتماد میں لینے کی ضروت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے تمام جماعتیں متفق ہیںجن معاملات پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا اس پر تو نہیں لیا گیا، چین اور سعودی عرب سے قرضہ لیتے وقت تو ہم سے پوچھا تک نہیں۔

ایم کیو ایم کے سینیٹرمیاں عتیق شیخ نے کہا کہ ہمیں باتوں سے باہر نکل کر عملیت پسندبننا پڑیگا،ہم ستر سال بعد بھی اس بات پر لڑ رہے ہیں کہ چھٹی ہونی چاہیے یانہیں ، علامہ اقبا لؒ پوری دنیا میں مانی ہوئی شخصیت ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے سینیٹررانا مقبول احمد نے کہا کہ یکم مئی کی چھٹی ختم نہیں کر سکتے مگر یوم اقبال کی چھٹی کیوں ختم کی گئی،اس کا روز قیامت جواب دینا پڑے گا،ایک عاشق رسول ؐ کے ساتھ یہ رویہ کیوں روا رکھا گیا ، ہم اقبال کے افکار کے حوالے سے زیادتی کر رہے ہیں،علامہ کے لیکچر کو صرف فلسفے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ سلیبس کا حصہ بنا کر بچوں کو پڑھائیں،انسان کی شخصیت میں نکھار علامہ اقبالؒ کی صوفیانہ افکار کے بغیر ممکن نہیں۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر محمد طلحہ محمودنے کہا کہ تشکیل پاکستان کا تصور اقبال نے دیا، اقبال کی اس ملک اور مسلمانوں کیلئے بے شمار خدمات ہیں، ان کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔سینیٹرانوار الحق کاکڑنے کہا کہ برصغیر کے مسلمانوں کی آزادی کیلئے اقبال نے کردار ادا کیا،اقبال نے ہر باطل کے آگے کلمہ حق بلند کیا، ہمیں بھی ان کی افکار پر عمل کرتے ہوئے ہر باطل کو نا کہنا پڑے گا۔

سینیٹر اورنگزیب خان نے کہا کہ علامہ اقبالؒ کا کردار آج بھی زندہ ہے،ان کے افکار کو زندہ رکھنے کیلئے اس دن سرکاری چھٹی کی جائے۔مسلم لیگ( ن) کے سینیٹرمشاہد اللہ خان نے کہا کہ قوم اقبالؒ کو بھلابیٹھی ہے جس نے اس ملک کو بنانے کا خواب دیکھا تھا،وہ الہامی شاعر تھے اوربا مقصد شاعری کرتے تھے،علامہ اقبال ؒنے شاعری کے ذریعے مسلمانوں کی ترقی اور تنزلی کے اسباب کو سامنا لایا،انہوں نے اسلام کی اصل روح کو اجاگر کیا،بد قسمتی سے ہمارے تعلیمی سیلبس اور پورے معاشرے سے ان کے افکار ختم ہو چکے ہیں،ہم معیشت کو بہتر کرنے کی چکر میں ان کی افکار سے غافل ہوچکے ہیں،چھٹی ہو یا نہ ہو اقبال کی افکار کو یادرکھنا چاہئے۔