مجموعی امور واقدامات میں مفاد عامہ کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے،آئی جی سندھ

مختلف لوکیشنز پر رکھے جانیوالے روڈ ٹریفک بیریئرز پر بھی ریفلیکٹرپیپرز نمایاں طور پر چسپاں کیئے جائیں،ڈاکٹرکلیم امام کی ہدایت

جمعہ نومبر 18:54

مجموعی امور واقدامات میں مفاد عامہ کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے،آئی ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 نومبر2018ء) آئی جی سندھ ڈاکٹرسید کلیم امام نے پولیس کو جاری رہنما ہدایات میں کہا ہے کہ مجموعی امور واقدامات میں مفاد عامہ کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایونٹ یا سانحہ کی صورت میں کراچی پولیس سیکیورٹی نکتہ نگاہ اور بوجہ ضروری متبادل روٹس کیلئے بیس فٹ کے کنٹینرز استعمال کرتی ہے۔

لہٰذا ایسے تمام پولیس کنٹینرز کو نا صرف باقاعدہ رنگ کیا جائے بلکہ ان پر سندھ پولیس کی جانب سے زخمت کیلئے معذرت خواہ ہیں بھی تحریر کیا جائے۔علاوہ اذیں کراچی کی مختلف لوکیشنز پر رکھے جانیوالے روڈ ٹریفک بیریئرز پر بھی ریفلیکٹرپیپرز نمایاں طور پر چسپاں کیئے جائیں۔موٹرسائیکل فیکٹریز ،ڈسٹری بیوٹرز اور شورومز مالکان/ایسوسی ایشنز نمائندگان سے باقاعدہ ملاقات کی جائے اور ان میں یہ شعور اجاگر کیا جائے کہ ہرموٹرسائیکل ڈلیوری اور فروخت ہیلمٹ کے ساتھ کی جائے ۔

(جاری ہے)

آل پاکستان پیٹرولیم ڈیلرزایسوسی ایشن (APPDA) سے باقاعدہ شیڈول اجلاس کرکے انھیں ہیلمٹ کے استعمال اور اسکی اہمیت کی بابت آگاہی دی جائے ۔اس اجلاس کے تحت اس امر پر بھی فوکس رکھا جائے کہ ہیلمٹ استعمال نہ کرنیوالے موٹرسائیکل سواروں کو پیٹرول فروخت نہ کیا جائے ۔موٹرسائیکل سواروں میں مفت ہیلمٹ تقسیم کی مہم کیلئے ذرائع مہیا کیئے جائیں اس مہم سے موٹرسائیکل سواروں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہ اپنی حفاظت کے لیئے ہیلمٹ کا استعمال شروع کردیں گے ۔

سرکاری ونجی اسکول انتظامیہ سے روابط کرکے ذیل تفصیلات برائے سیکیورٹی و دیگر ضروری اقدامات ترتیب دی جائیں۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ ڈیٹا کراچی پولیس آفس کی سطح پر ترتیب دیا جائے اور متعلقہ افسران کو ہدایات جاری کی جائیں کہ اسکول وینز کی جانب سے ٹریفک قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں میں نمایاں کمی کے اقدامات اٹھائے جائیں۔سڑکوں پرگاڑیوں میں اوور لوڈنگ کی روک تھام کی جائے اور اس حوالے سے باالخصوص بچوں کو لیجانیوالی اسکول وینز پر خصوصی فوکس رکھا جائے ۔

اس حوالے سے پہلے مرحلے میں ایسے ڈرائیورز میں شعور اجاگر کیا جائے انھیں تنبیہہ کی جائے اور خبردار کیا جائے بعداذاں انکے خلاف ٹریفک قوانین کے مطابق کاروائی کی جائے ۔موٹروے پولیس کی طرز پر موبائل ایجوکیشن یونٹس(MEU)کا قیام عمل میں لایا جائے جسکا مقصد باقاعدہ مہم بریفنگ اور سیمینارز کے تحت اسکولز/کالجز/ جامعات کے طلباء وطالبات کو ٹریفک قوانین پر عمل داری کی افادیت اورخلاف ورزیوں سے ہونیوالے نقصانات کی بابت آگاہی دینا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کیلئے کمپیوٹر کے استعمال کی صلاحیت رکھنے والے تعلیم یافتہ اسٹاف بشمول خواتین پولیس اہلکاروں کا انتخاب کیا جائے اور اس ضمن میں باقاعدہ ایک وہیکل بھی مخصوص کی جائے ۔