حمزہ شہباز پارٹی رہنماؤں سے ناراض ہو گئے

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماؤں کی غیر حاضری پر حمزہ شہباز کا شدید ناراضگی کا اظہار

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان پیر نومبر 12:51

حمزہ شہباز پارٹی رہنماؤں سے ناراض ہو گئے
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 نومبر 2018ء) :حمزہ شہباز پارٹی رہنماؤں سے ناراض ہو گئے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی عدالت میں پیشی کے موقع پر مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماؤں کی غیر حاضری پر حمزہ شہباز نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔اظہار یک جہتی کے لیے عدالت میں نہ پہنچنے والے رہنماؤں سے باز پرس کا فیصلہ کیا،غیر حاضر ہونے والے رہنماؤں میں سابق اسپیکر اسمبلی ایاز صادق،سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور خواجہ احمد حسان بھی شامل ہیں۔

خیال رہے ء) احتساب عدالت نے آشیانہ ہائوسنگ سکینڈل میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے صدر ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد شہباز شریف کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کردی ہے۔

(جاری ہے)

نیب کی جانب سے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کو سخت سکیورٹی میں اسلام آباد سے لاہور ائیر پورٹ لایا گیا تھا،ا جہاں سے انہیں رینجرزاور پولیس کی سخت سکیورٹی میں جوڈیشل کمپلیکس میں احتساب عدالت کے جج نجم الحسن کی عدالت میں پیش کیا گیا ۔

سماعت کا آغاز ہونے پر نیب کی جانب سے خصوصی پراسیکیوٹر وارث علی جنجوعہ دلائل دئیے۔ اس دوران کمرہ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا جس پر احتساب عدالت کے جج نے استفسار کیا ۔شہباز شریف نے کہا کہ جج صاحب یہ کارکن نہیں، وکلا ء دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔احتساب کے جج نے کہا کہ یہ وکیل کیوں آئے ہیں، کیا یہ شہباز شریف سے اظہار یکجہتی کرنے آئے ہیں۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ ہم نے ان وکلا ء کو نہیں بلایا، ہم تو چاہتے ہیں کہ اچھے حالات میں سماعت ہو۔ جس پر احتساب عدالت کے جج نے برہمی کا اظہار کیا اور ایس پی کو طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ میں ان حالات میں سماعت نہیں کرسکتااورسماعت کچھ دیر کے لیے روک دی گئی ۔مختصر وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا تو نیب کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ آج دس نومبر کو رمضان شوگر ملز کیس میں بھیشہباز شریف کی گرفتاری ڈالی گئی ہے ۔

جس پر شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ عدالت کو جو نئی درخواست دی گئی ہے وہ غلط بنیاد پر دی گئی ہے۔ قانون کہتا ہے کہ ایک کیس میں گرفتار شخص کو دوسرے کیسز میں گرفتار سمجھا جائے گا۔جس پر نیب کے وکیل نے کہا کہ شہباز شریف پر نیا کیس الگ ہے جبکہ موجودہ کیس ثبوت کے ساتھ ہے۔