دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے والے سینکڑوں افسر ترقی سے محروم

ملک کے لیے قربانیاں دینے کے باوجود ترقی نہیں دی گئی، افسران نے عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین پیر نومبر 14:26

دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے والے سینکڑوں افسر ترقی سے محروم
پشاور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 12 نومبر 2018ء) : دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے اور قربانیاں دینے کے باوجود ترقی سے محروم رہنے والے افسران نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق خبیر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صف اول میں کھڑے ہو کر لڑنے والے پو لیس افسران ایک مرتبہ پھر ترقی سے محروم رہ گئے جبکہ ان کے جونیئر اہلکاروں کو ترقی دے کر بڑے عہدوں پر فائز کر دیا گیا ہے جس پر ان تمام افسران نے عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

قومی اخبار میں شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ اعلیٰ حکام نے ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر محمد نعیم کے بھیجے ہوئے نام بھی ردی کی ٹوکری میں ڈال دیئے اور ایک مرتبہ پھر 100سے زائد افسران ترقی سے محروم رہ گئے ۔ متاثرہ پولیس افسران نے نا انصافی کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

(جاری ہے)

خبیر پختونخوا میں منظور نظر پو لیس افسران کو ترقی دینے اور سینئر اہلکاروں کو محروم کرنے سے پو لیس افسران میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے ۔

ان کے مطابق صرف ایلیٹ فورس میں 40 اور دیگر فورسز میں 100 سے زائد پو لیس افسران ہیں جو عرصہ دراز سے ترقی کے منتظر ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایلیٹ فورس نے اپنی جانوں پر کھیل کر پشاور کے نواحی علاقہ مچنی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا تھا ۔ سوات آپریشن ، باچاخان یو نیورسٹی اور ایگلچر انسٹی ٹیوٹ میں اسی فورس نے آپریشن کیا سب سے زیادہ شہادتیں بھی ایلیٹ فورس کے جو انوں نے دی تاہم جب پر ومو شن ہو تی ہے تواس میں جونئر پو لیس افسران کو ترقی دی جاتی ہے ۔

متاثرہ پو لیس آفیسرز نے 92 نیو ز کو بتایا کہ ان کی خدمات اور سروس دیکھ کر ایڈیشنل آئی جی خبیر پختونخوا ڈاکٹر محمد نعیم نے ان کی ترقی کی فہرست بنا کر آئی جی خبیرپختونخوا کو ارسال کی لیکن اس فہرست کو آئی جی خیبرپختونخواہ کے دفتر سے غائب کر دیا گیا اور ترقی پانے والوں میں انہیں شامل نہیں کیا گیا تاہم جب اس حوالے سے سی سی پی او سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ خبیر پختونخوا میں تما م پولیس افسران کے ناموں کی فہرست بنائی جا رہی ہے اور اب بننے والے نظام میں کوئی محروم نہیں رہے گا ، اب دی جانے والی ترقی میں ان کی خدمات اور سینیارٹی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ اپنی سروسز اور ذمہ داریوں کو بخوبی انجام دینے کے باوجود ترقی نہ مل سکنا اہلکاروں میں شدید مایوسی پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے اسی لیے اب خیبرپختونخواہ میں تمام پولیس افسران کے ناموں کی فہرس تیار کی جا رہی ہے جس میں اُمید کی جا رہی ہے کہ حق داروں کو ہی ترقی دی جائے گی ۔