خرم شیر زمان کا کراچی کے کالجوں میں تدریسی آسامیاں فی الفور پر کرنے کا مطالبہ

عوام وزیر اعلیٰ سندھ کی طرف سے سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلان کو ظالمانہ مذاق سمجھتے ہیں، صدر پی ٹی آئی کراچی دویژن

پیر نومبر 21:06

خرم شیر زمان کا کراچی کے کالجوں میں تدریسی آسامیاں فی الفور پر کرنے ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے صد ر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ تعلیم سندھ فوری طور پر کراچی کے 138سرکاری کالجز میں تدریسی آسامیوں پر اہل اساتذہ تعینات کرے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے پورے سندھ کا پرائمری و ثانوی تعلیمی نظام تباہ وبرباد کردیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کالج کی سطح پر معیاری تعلیم فراہم کرنے میں بھی سندھ حکومت کی غفلت قابل مذمت ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام وزیر اعلیٰ سندھ کی طرف سے سندھ میں تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کے اعلان کو ظالمانہ مذاق سمجھتے ہیں۔ خود وزیر اعلیٰ سندھ نے اعتراف کیا ہے کہ ایمرجنسی تعلیم سے سندھ کو قابل قدر نتائج حاصل نہیں ہوسکے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ محکمہ تعلیم سندھ نے اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی کہ کراچی کے کالج تدریسی عملے کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

صدر پی ٹی آئی کراچی کا کہنا تھا کہ 65گرلز کالجز میں مختلف کیڈرز کی کل 2628 آسامیوں میں سے تقریباً 43فیصد یعنی 1137 آسامیاں خالی ہیں۔ اسی طرح لڑکوں کے کالجز میں بھی صورتحال ابتر ہے جہاں کل 72کالجز میں1186تدریسی آسامیاں خالی ہیں جو کل 2782 آسامیوں کا تقریباً43 فیصد بنتی ہیں۔ کراچی کے سرکاری کالجز میں آسامیاں خالی ہونے کی یہ سطح ناقابل قبول ہے۔

یہ شہر اس صوبے کے لیے ٹیکس کی مد میں سب سے زیادہ حصہ دیتا ہے اور تحسین کی بجائے سندھ حکومت اس کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا سلوک کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تدریسی آسامیوں میں اس شدید قلت سے پوش علاقوں اور کراچی کے وسط سے طلبہ زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں کوچنگ سینٹرز میں جا کر پڑھائی کرنا پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات الجھن کا باعث ہے کہ محکمہ تعلیم سندھ ان آسامیوں کو پر کرنے میں غفلت کا مظاہرہ کر رہا ہے جبکہ تعلیم کی مد میں ہر سال اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ خرم شیر زمان نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ سندھ اور وزیر تعلیم سندھ یہ تدریسی آسامیاں پرکرنے کے لیے فوری عملی اقدامات اٹھائیں۔