آڈٹ نہ کرانے والی یونیورسٹیوں کا سالانہ بجٹ منظور نہیں کیاجائیگا، شاہ فرمان

پیر نومبر 18:20

پشاور۔12 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) گورنرخیبرپختونخوا شاہ فرمان نے کہاہے کہ تمام یونیورسٹیاں اپنے مالی سال کے بجٹ کو سینٹ اجلاس میں پیش کرنے سے قبل بجٹ کی معقولیت اورضروریات کو صحیح معنوں میں واضح کریں، فنانشل آڈٹ کے بغیربجٹ کو سینٹ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش نہ کیاجائے۔ یہ ہدایات انہوں نے پیرکو گورنرہاؤس پشاورمیں وویمن یونیورسٹی صوابی کے تیسرے سینٹ اجلاس کی صدارت کے دوران دیں، گورنرخیبرپختونخوا نے کہاکہ تمام اعلی تعلیمی جامعات اپنے مالی سال کے بجٹ مئی کے وسط تک تیارکرکے سینیٹ اجلاس میں منظوری کیلئے پیش کریں، ایسی تمام یونیورسٹیاں جنہوں نے آڈٹ نہیں کرایا ان کا بجٹ منظور نہیں کیاجائیگا۔

گورنرخیبرپختونخوا کا کہناتھا کہ فیکلٹی اراکین معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ طلباء کی بہتر تربیت میں بھی اپنا بھرپورکردار ادا کریں اور اس مقصد کیلئے یونیورسٹی اساتذہ اپنے عملی کردار سے طلباء کیلئے نمونہ بن سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

نصابی سرگرمیوں کے ساتھ طلباء کو اخلاقی درس دینا بھی اساتذہ کی ذمہ داریوں میں شامل ہوناچاہئیے۔ انہوں نے کہاکہ میرٹ اورشفافیت پرکوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائیگا اورمیرٹ کے برعکس تقرریاں کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔

اس موقع پر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر خانزادی فاطمہ خٹک نے سینٹ اجلاس کو یونیورسٹی کی تعلیمی و انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایاگیاکہ یونیورسٹی کے مین کیمپس کا تعمیراتی کام تکمیل کے مراحل میں ہے۔ بعدازاں سینٹ کی جانب سے مذکورہ یونیورسٹی کے رواںمالی سال کے بجٹ کی منظوری بھی دی گئی۔سینٹ اجلاس میں گورنرکے پرنسپل سیکرٹری نظام الدین ، سیکرٹری محکمہ اعلی تعلیم منظور احمد، وائس چانسلر وویمن یونیورسٹی صوابی پروفیسر خانزادی فاطمہ خٹک کے علاوہ دیگرمتعلقہ افسران نے شرکت کی۔

متعلقہ عنوان :