10 ممالک سے 700 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کی معلومات مل گئیں ،ْجلد ریفرنس فائل کر دیا جائیگا ،ْ شہزاد اکبر

ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کیلئے سابق حکمرانوں نے اقامے بنوائے، تمام اقامہ ہولڈرز کی تفصیلات دبئی انتظامیہ سے لے رہے ہیں ،ْ جن لوگوں نے دبئی اور یورپی بینکوں میں پیسے چھپا رکھے ہیں وہ چھپ نہیں سکیں گے ،ْ اقامہ کے پیچھے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا ڈرامہ ہے ،ْپہلے بڑے مگرمچھوں پرہاتھ ڈالیں گے ،ْپریس کانفرنس تحریک انصاف کی حکومت اگر کوئی کیس تیار کریگی تو اس کے بارے میں باقاعدہ اطلاع دی جائے گی ،ْ افتخار درانی نواز شریف نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر 2 چیزوں کیلئے نکلے تھے ایک عوام کا ووٹ اور دوسرا این آر او تھا لیکن کچھ نہ مل سکا ،ْ سینیٹر فیصل جاوید

پیر نومبر 18:40

سلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ 10 ممالک سے 700 ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ کی تفصیلات مل گئیں اور جلد ریفرنس فائل کردیا جائے گا ،ْملک سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کیلئے سابق حکمرانوں نے اقامے بنوائے، تمام اقامہ ہولڈرز کی تفصیلات دبئی انتظامیہ سے لے رہے ہیں ،ْ جن لوگوں نے دبئی اور یورپی بینکوں میں پیسے چھپا رکھے ہیں وہ چھپ نہیں سکیں گے ،ْ اقامہ کے پیچھے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کا ڈرامہ ہے ،ْپہلے بڑے مگرمچھوں پرہاتھ ڈالیں گے۔

پیر کو شہزاد اکبر نے سینیٹر فیصل جاوید اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ منی لانڈرنگ کے دوران 5 ہزار سے زائد جعلی اکاؤنٹس ملے جو عام شہریوں کے نام ہیں جن کے ذریعے پاکستان سے باہر منی لانڈرنگ ایک ہزار ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی۔

(جاری ہے)

شہزاد اکبر نے کہا کہ ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو چھپانے کے لیے سابق حکمرانوں نے اقامے بنوائے، ہم تمام اقامہ ہولڈرز کی تفصیلات دبئی انتظامیہ سے لے رہے ہیں اور جن لوگوں نے دبئی اور یورپی بینکوں میں پیسے چھپا رکھے ہیں وہ چھپ نہیں سکیں گے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ تقریباً دس ممالک سے منی لانڈرنگ معلومات حاصل کرلیں جس کے مطابق پاکستان سے 5.3 کروڑ ارب ڈالر باہر لے جائے گئے اور یہ 700 ارب روپے بنتے ہیں جو کل رقم کا بہت چھوٹا حصہ ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی نے کہا کہ جعلی اکاؤنٹس کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور عدالتی حکم ہے کہ اس معاملے کے حوالے سے میڈیا پر بات نہ کی جائے، ملزمان کی لسٹ جلد سامنے آجائے گی اور جب تک ریفرنس فائل کرنے کا فیصلہ نہیں ہوتا اس وقت تک فہرست سامنے نہیں لاسکتے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے ملک کی لوٹی گئی دولت چھپانے کیلئے اقامے بنوائے، اقامے دو طرح کے ہیں، ایک وہ جو یہاں سے مزدور و محنت کش لیتے ہیں اور دوسرا اقامہ ہولڈر وہ ہیں جو کوئی وزیر رکھتے ہیں جن کی تفصیلات حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب کا کہنا تھا کہ سب سے مشکل درپیش اقامہ کے ذریعے اصل ملزم کی شناخت ہے کیوں کہ وہ اپنی شناخت چھپا لیتے ہیں، اگر کسی نے اپنے مالی ڈرائیور کے نام پر جائیداد بنا رکھی ہے، جب اس بندے کے پیچھے جاتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت بڑے شخص کا ڈرائیور ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جس کے شہریوں کی دبئی میں سب سے زیادہ جائیدادیں ہیں، لوگوں نے اپنے ڈرائیور، باورچی اور دیگر لوگوں کے نام پر جائیدادیں بنائی ہوئی ہیں۔وزیراعظم کے معاون نے بتایا کہ یہ 70 دنوں کی کارروائی کی تفصیلات ہیں جس کے دوران 10 ممالک پر توجہ رہی، منی لانڈرنگ نے پاکستان کا ستیاناس کر دیا ہے ،ْاگر یہ نہ ہوتی تو ہم ایک معاشی مستحکم ملک ہوتے۔

انہوں نے بتایا کہ جعلی اکاؤنٹس جن میں ایک سے 2 ارب روپے جن کے نام پر نکلے ہیں ان میں رکشے والے اور ریڑھی والے شامل ہیں، لیکن پیسے اس سے بھی کئی زیادہ ہیں۔انہوںنے کہاکہ جب اثاثہ جات ریکوری یونٹ منی لانڈرنگ کے پیسوں سے متعلق تحقیقات کرتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ پیسہ ایسے فرد کے پاس ہے جو ایک بااثر شخص کا ڈائیور یا مالی ہے۔اس موقع پر وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی افتخار درانی نے بتایا کہ گزشتہ 10 سال میں پاکستانیوں نے 15 ارب ڈالر کی جائیدادیں دبئی میں بنائیں۔

انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت نے اب تک کوئی کیس دائر نہیں کیا، بلکہ ابھی ان تمام کیسز پر ہی کام کیا جارہا ہے جو مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں بنائے گئے تھے۔انہوںنے کہاکہ تحریک انصاف کی حکومت اگر کوئی کیس تیار کرے گی تو اس کے بارے میں باقاعدہ اطلاع دی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ نیب، ایف بی آر، ایس ای سی پی اور دیگر ادارے اپنے دائرے میں رہ کر کام کر رہے ہیں، ہم نے کسی کے خلاف کیس نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ کچھ بھی کہتے رہیں احتساب جاری رہے گا، ایسیٹ ریکوری یونٹ بھی کام کر رہا ہے اور ابھی تک اس یونٹ نے کوئی کیس نہیں کیا۔پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے کہاکہ نواز شریف نااہلی کے بعد جی ٹی روڈ پر 2 چیزوں کے لئے نکلے تھے ایک عوام کا ووٹ اور دوسرا این آر او تھا لیکن انہیں کچھ نہ مل سکا، البتہ شہزاد اکبر کو ان کے اقاموں کے حوالے سے بہت کچھ مل گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک اقامے وہ محنت کش پاکستانی حاصل کرتے ہیں جو گزشتہ 20،20 برسوں سے دیار غیر میں محنت مزدوری کرکے قیمتی زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں جس سے پاکستان کی معیشت چل رہی ہے۔ دوسری طرف کااقامہ وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو پاکستان میں صاحب اختیار ہوتے ہیں۔ یہ لوگ ملک کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی سیلز منیجر کی نوکری کرتے ہیں اسی طرح احسن اقبال اور خواجہ آصف کے پاس بھی اقامے ہوتے ہیں۔

یہ اقامے بنیادی طورپرلوٹی ہوئی دولت منی لانڈرنگ کے ذریعے باہر بھیجنے کے لئے بنائے جاتے ہیں اور اس بارے تحقیقات سے بچنے کے لئے یہ اقامے ان کے کام آتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی حکومت نے منی لانڈرنگ کے خاتمہ کے حوالے سے اتنے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے ۔ اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ماضی کی حکومتیں چونکہ خود کرپٹ تھیں اس لئے منی لانڈرنگ اور بد عنوانی کے خاتمے کے لئے کوئی اقدامات نہیں ہوئے۔

انہی حکمرانوں کی وجہ سے قوم پر قرضوں کا بوجھ 6 ارب سے بڑھ کر 30 ہزار ارب تک بڑھا ہے اور ان کی طرز حکمرانی کی وجہ سے پاکستان کی غریب عوام غریب تر اور امیر امر تر ہوتے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے خلاف اس لئے اتنے بڑے پیمانے پر کاروائی ہو رہی ہے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان کرپٹ نہیں ہے اور وہ بد عنوانی کے خاتمے کی قوم کی خواہش کے مطابق اقدامات کررہے ہیں۔

عمران خان پر قوم نے اعتماد کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت پر عوامی اعتماد کی سب سے بڑی مثال گزشتہ سہ ماہی میں بیرونی ملک سے بھیجی ریکارڈ7.4 ارب ڈالر ترسیلات زر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بد عنوانی اور منی لانڈرنگ کے خلاف حکومتی اقدامات کی وجہ سے شہباز شریف، خورشید شاہ اور فضل الرحمن کے چہروں پر گھبراہٹ ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ حکومت ان سے ایک ایک پیسہ واپس لے گی۔

ایک سوال پر شہزاد اکبر نے بتایا کہ ہل میٹلز کیس کا فیصلہ سامنے آئے گا تو ساری صورتحال واضح ہو جائے گا۔ کیونکہ ہل میٹلز وہ بابرکت فیکٹری ہے جس سے پاکستان اور لندن ہرجگہ جائیدادیں بنانے کیلئے سرمایہ منتقل کیا جاتا رہا ہے۔ فلیگ شپ انوسٹمنٹ کے لئے بھی سرمایہ ہل میٹلز سے منتقل کیا گیا۔ اثاثوں کی پاکستان منتقلی کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں متحدہ عرب امارات کی حکومت کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں اور باہمی سمجھوتے بھی کئے جارہے ہیں۔

دبئی کے حکام سے ہم نے وہاں پہنچنے پر حاصل کردہ کیش ڈکلریشن کی تفصیلات بھی مانگی ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں کے وزیر انصاف سے بھی عنقریب ملاقات ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے ساتھ تحویل مجرمان اور باہمی تعاون کے سمجھوتوں پر بھی پیشرفت ہو رہی ہے۔ باہر کے ممالک ہمارے ساتھ اس لئے تعاون کر رہے ہیں کیونکہ پاکستان کی قیادت دیانتدار ہے، اس کے علاوہ منی لانڈرنگ اور کالے دھن کے حوالے سے دنیا کے خدشات بھی موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اثاثوں کی واپسی کا ایک طریقہ کار ہوتا ہے، پہلے مرحلے میں اثاثے منجمد کئے جاتے ہیں اور بعدازاں ان کی منتقلی کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسسیٹ ریکوری یونٹ کا کام اثاثوں کا پتہ لگانا ہے جبکہ قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لئے متعلقہ ادارے اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں پڑے پاکستانیوں کے اثاثوں کے بارے میں اس ماہ کے آخر میں بہت بڑی خوشخبری سنائیں گے۔

ایک سوال پر سینیٹر فیصل جاوید نے کہاکہ اس وقت کمزور اپوزیشن ہے ، اس سے کمزور اپوزیشن نہیں آسکتی۔ انہوں نے کہاکہ دونوں جماعتوں نے ماضی میں چارٹر آف کرپشن میں ایک دوسرے کے ساتھ طے کیا ہوا تھاکہ ایک دوسرے کی چوری کو چھپانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں ایسا بندہ ہونا چاہیے جس میں خود پر کوئی کیس نہ ہو۔