چیئرمین سینٹ نے مشترکہ مفادات کونسل کی گزشتہ تین سالوں کی رپورٹس ایوان بالا میں پیش نہ کئے جانے کے معاملے پر تحریک استحقاق پر فیصلہ محفوظ کر لیا

شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کی نشاندہی کیلئے لازمی خون ٹیسٹ بل 2018ء پیش کرنے کا معاملہ نمٹا دیا ،ْ کئی بل متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے گئے غیر ملکی معاہدوں کی توثیق کیلئے توثیق معاہدات غیر ملکی از پارلیمنٹ بل 2018ء بھی متعلقہ کمیٹی کے سپرد ،ْقرآن پاک کی اشاعت (پرنٹنگ و ریکارڈنگ) میں غلطیوں کا خاتمہ (ترمیمی) بل 2018ء کا معاملہ نمٹا دیا گیا نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر ٹیلی فون کی سہولت کی فراہمی سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کی رپورٹ پیش

پیر نومبر 18:40

> اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے مشترکہ مفادات کونسل کی گزشتہ تین سالوں کی رپورٹس ایوان بالا میں پیش نہ کئے جانے کے معاملے پر تحریک استحقاق پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔ پیر کو اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر میاں رضا ربانی نے تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2012ء میں اس وقت کے چیئرمین سینٹ نے ایک رولنگ دی گئی کہ مشترکہ مفادات کونسل اور دیگر ضروری رپورٹس ایوان بالا میں پیش کرنا لازمی ہیں لیکن مشترکہ مفادات کونسل نے 2016، 2017 اور 2018ء کی اپنی رپورٹس ایوان بالا میں پیش نہیں کیں جس سے ایوان کا استحقاق مجروح ہوا ہے۔

چیئرمین نے کہا کہ یہ تحریک استحقاق متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوائی ہے، تحریک استحقاق پیش کرنے سے پہلے نوٹس دینا ضروری ہے۔

(جاری ہے)

میاں رضا ربانی نے موقف اختیار کیا کہ اگر کوئی فوری امر کا معاملہ ہو تو تحریک استحقاق بغیر کسی نوٹس کے پیش کی جا سکتی ہے، رولز میں اس کی اجازت ہے۔ جس پر چیئرمین نے کہا کہ وہ اس پر بعد میں فیصلہ کریں گے۔ اجلاس کے دور ان سینیٹ میں دستور (ترمیمی) بل 2018ء پیش کرنے کا معاملہ نمٹا دیا گیا۔

بل کے محرک سینیٹر محمد صابر شاہ کی غیر موجودگی کی وجہ سے چیئرمین نے بل نمٹا دیا۔اجلاس کے دور ان شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کی نشاندہی کے لئے لازمی خون ٹیسٹ بل 2018ء پیش کرنے کا معاملہ نمٹادیا گیا۔ بل کے محرک سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے کی عدم موجودگی کی وجہ سے چیئرمین نے بل کا معاملہ نمٹا دیا۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینیٹ نے سرکاری و نجی اداروں میں ڈے کیئر سینٹرز کے قیام کے لئے ڈے کیئر سینٹرز بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

اجلاس میں بل کی محرک سینیٹر قراة العین مری نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے بھی تحریک کی حمایت کی جس کے بعد چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔اجلاس کے دور ان سرکاری و نجی سکولوں میں تربیت یافتہ طبی عملے کی سہولت کی فراہمی کے لئے تربیت یافتہ طبی عملہ سہولت بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

بل کی محرک سینیٹر قراة العین مری نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی اور کہا کہ سرکاری و نجی سکولوں میں تربیت یافتہ طبی عملے کی تعیناتی ضروری ہے تاکہ بچوں کو کسی بھی قسم کی ہنگامی صورتحال میں فوری طبی امداد دی جا سکے۔ قائد ایوان سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ ہم اس بل کی مخالفت نہیں کریں گے، سرکاری سکولوں میں تو وزارت تعلیم اس سلسلے میں اقدامات کرے گی تاہم نجی سکول ایسے کسی بھی اقدام کے اخراجات والدین پر ڈال دیں گے اس چیز کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔

بعد ازاں چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینٹ نے بورڈ آف انویسٹمنٹ (ترمیمی) بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم بہت اہم ہے، پاکستان میں جتنی بھی غیر ملکی سرمایہ کاری ہو اس میں لازمی قرار دیا جائے کہ 60 فیصد ہنر مند افرادی قوت پاکستان کی ہونی چاہیے۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے کہا کہ ہم اس بل کی مخالفت نہیں کرتے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے پاس اتنی افرادی قوت دستیاب ہو گی بھی یا نہیں۔ ایوان نے تحریک کی منظوری دیدی جس کے بعد چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔اجلاس کے دور ان چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے غیر ملکی معاہدوں کی توثیق کے لئے توثیق معاہدات غیر ملکی از پارلیمنٹ بل 2018ء متعلقہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

سابق چیئر مین سینٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی اور کہا کہ غیر ملکی معاہدوں کی پارلیمنٹ سے توثیق ضروری ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس حوالے سے وزارت خارجہ نے بھی انہیں آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ نوآبادیاتی نظام کے تحت جو ممالک رہے ہیں، وہاں پر اس حوالے سے مختلف طریقہ کار ہے، برطانیہ میں بھی توثیق کا ایوان کو کردار نہیں دیا گیا تاہم ایسے معاہدے پارلیمنٹ میں پیش کئے جاتے ہیں تاکہ پارلیمنٹ ان سے آگاہ ہو جائے کہ ان معاہدوں میں کیا چیز ہے۔

انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ کو بھی اس پر تحفظات تھے تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ پارلیمان کی نگرانی ہونی چاہیے، دفتر خارجہ کا موقف ہے کہ اس نوعیت کے جو معاہدے ہوتے ہیں ان میں اتفاق رائے تک پہنچنے کے لئے کافی وقت لگتا ہے اور اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے بعض سمجھوتے بھی کرنا پڑتے ہیں، جب توثیق کا عمل جاری ہو تو شاید پارلیمان ان معاملات سے آگاہ نہ ہو اور وہ کوئی ترامیم بھی تجویز کر سکتے ہیں جس سے غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے، دوسرے بہت سے غیر ملکی معاہدوں کے حوالے سے معلومات بھی نہیں ہوتیں، ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان کی نگرانی بھی رہے اور ان معاہدوں کے پیچھے جو سوچ کارفرما ہے اس میں بھی رخنہ اندازی نہ ہو اور توازن پیدا ہو جائے۔

قائمہ کمیٹی میں وزارت خارجہ کا نمائندہ بھی اس سلسلے میں بلا لیا جائے تو اس کا موقف بھی آ جائے گا۔ قائد حزب اختلاف راجہ ظفر الحق نے کہا کہ قوم کی طرف سے جو معاہدے کئے جاتے ہیں، بعد میں انہیں تبدیل کرنا مشکل ہو جاتا ہے، سری لنکا میں اسی طرح کے معاہدے ہوئے تھے جس کی وجہ سے ان معاہدوں کی مدت ختم ہونے کے بعد معاہدے کرنے والی حکومت اقتدار سے محروم ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ قوم کو ان معاہدوں سے باخبر رکھنا اور پارلیمان کی نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام معاملات صرف ایگزیکٹو کے پاس نہیں ہونے چاہئیں، اس سلسلے میں خارجہ امور اور فنانس کی قائمہ کمیٹیاں مشترکہ طور پر بھی ان کا جائزہ لے سکتی ہیں، معاملہ کمیٹی کو بھجوایا جائے تاہم پارلیمان کو اس عمل سے باہر نہیں رکھنا چاہیے۔ جس کے بعد چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔

اجلاس کے دور ان پاکستان سے اخراج (کنٹرول) (ترمیمی) بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیاگیا اس سلسلے میں تحریک پیش کی گئی اور کہا گیا کہ یہ بل بہت اہمیت کا حامل ہے، ای سی ایل کے حوالے سے ریویو پٹیشن کا فیصلہ 15 دن میں ہونا چاہیے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی تحریک کی مخالفت کی اور کہا کہ زمینی حقائق کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے، نظرثانی کی درخواست پر فیصلے کے حوالے سے ایک طریقہ کار موجود ہے، 15 دن نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ کرنا مشکل ہو گا، جلد بازی میں بعض اوقات درست فیصلے نہیں ہوتے اور اس طرح کے فیصلوں سے ریاست اور متعلقہ فریقین کے لئے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا جائے وہاں پر اس پر تفصیلی غور کیا جا سکتا ہے۔ جس کے بعد چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔ اجلاس کے دور ان چیئرمین سینٹ نے پاکستان کوریئر اینڈ لاجسٹکس ریگولیٹری اتھارٹی بل 2018ء کا معاملہ نمٹا دیا۔ بل کی محرک سینیٹر خوش بخت شجاعت کی عدم موجودگی کی وجہ سے چیئرمین نے بل کا معاملہ نمٹا دیا۔

اجلاس کے دور ان چیئرمین سینٹ نے دستور (ترمیمی) بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔ اجلاس میں سینیٹر قراة العین علی نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی۔ حکومت کی جانب سے مخالفت نہ کئے جانے پر چیئرمین بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔اجلاس کے دور ان انسانی اعضا کی پیوند کاری (ترمیمی) بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ بل کے محرک سینیٹر میاں محمد عتیق شیخ نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔

حکومت نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ جس کے بعد چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی سپرد کر دیا۔اجلاس کے دور ان غیر ملکی نجی سرمایہ کاری (فروغ و تحفظ) (ترمیمی) بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بجھوا دیا گیا۔ سینیٹر شیری رحمن نے تحریک پیش کی جس کی ایوان نے منظوری دیدی۔ جس کے بعد چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔اجلاس کے دور ان قرآن پاک کی اشاعت (پرنٹنگ و ریکارڈنگ) میں غلطیوں کا خاتمہ (ترمیمی) بل 2018ء کا معاملہ نمٹا دیا گیا۔

بل کے محرک سینیٹر صابر شاہ کے ایوان میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے چیئرمین نے بل کا معاملہ نمٹا دیا۔اجلاس کے دوران سینٹ میں دستور (ترمیمی) بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ سینیٹر قراة العین مری نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی۔ وزیر قانون نے بل کی مخالفت نہیں کی جس کے بعد چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔اجلاس کے دور ان مدریت اور پدریت رخصت بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔

سینیٹر قراة العین مری نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی۔ جس کے بعد چیئرمین نے بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔اجلاس کے دور ان ایس بی پی بینکنگ سروسز کارپوریشن تنسیخ بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ بل کے محرک سینیٹر رضا ربانی نے اس سلسلے میں تحریک پیش کی۔ قائد ایوان نے تحریک کی مخالفت نہیں کی جس کے بعد بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔

اجلاس کے دور ان بینکنگ کمپنیات (ترمیمی) بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا بل کے محرک سینیٹر میاں رضا ربانی نے تحریک پیش کی۔ حکومت کی طرف سے مخالفت نہ کئے جانے پر چیئرمین نے بل قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔اجلاس کے دور ان سٹیٹ بینک آف پاکستان (ترمیمی) بل 2018ء متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا بل کے محرک سینیٹر میاں رضا ربانی نے تحریک پیش کی۔ حکومت کی طرف سے مخالفت نہ کئے جانے پر چیئرمین نے بل قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا گیا۔اجلاس کے دور ان سینٹ میں نیو اسلام آباد ایئرپورٹ پر ٹیلی فون کی سہولت کی فراہمی سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے ہوا بازی کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ قائمہ کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد اللہ خان نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔