پولیس افسران جرائم کے خاتمے اور امن و مان کے قیام کیلئے اقدامات اٹھائیں،آئی جی پی کی ہدایت

پیر نومبر 23:20

پولیس افسران جرائم کے خاتمے اور امن و مان کے قیام کیلئے اقدامات اٹھائیں،آئی ..
پشاور۔12 نومبر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا صلاح الدین خان محسود نے اعلیٰ پولیس حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ پروایکٹیو پولیسنگ کے ذریعے تمام جرائم کے خاتمے اور امن و مان کے قیام کے لیے اقدامات اٹھائیں۔یہ ہدایات اُنہوں نے سنٹرل پولیس آفس پشاور میں صوبہ بھر کے ضلعی پولیس آفسروں کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کیں۔

ڈی آئی جی سپیشل برانچ، ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز، ڈی آئی جی سی ٹی ڈی ، ڈی آئی جی انوسٹی گیشن اور تمام ضلعی پولیس آفسروں نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیااور ہر ضلعی پولیس آفیسر نے اپنے اپنے اضلاع میں امن و امان کی صورتحال اور اس سلسلے میں اُٹھائے گئے سیکورٹی اقدامات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

اجلاس میں سکولوں ، کالجوں اور دیگر اہم مقامات کے لئے جاری کردہ -"گائیڈ لائنز "، کرایہ کی عمارتوں کے قوانین پر عمل درآمد، ہوٹلوں میں قیام کرنے والوں کی چیکنگ، سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن ،وہیکل ویری فیکیشن سسٹم اور کریمینل ریکارڈ ویری فیکیشن کا جائزہ لیا گیا اور شرکاء کو صوبے میں دہشت گردی اور جرائم کی روک تھام سے متعلق کئی ایک ہدایات جاری کی گئیں۔

اجلاس میں ایف آئی آرمیں ملزمان کے شناختی کارڈنمبر درج کرانے ، جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے قومی شناختی ویری فیکیشن سسٹم ،گاڑیوں کی ویری فیکیشن سسٹم اور کریمنیل ریکارڈ ویری یکیشن سسٹم کو مزید موثر اور بامعنی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے شرکاء کو ہدایت کی گئی کہ وہ باقاعدہ ایک لائحہ عمل تیار کرکے ماتحت پولیس افسروں کو اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

سب ڈویژن اورہر تھانے اور سی آئی اے چیک پوسٹوں کی سطح پر قومی شناختی کارڈ ویری فیکیشن سسٹم کی روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کریں۔ اجلاس کے شرکاء کو خطرہ الرٹ اور اینٹلی جنس رپورٹوں پر فوری ایکشن لینے اور اس پر باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرانے اور کاروائی ریکارڈ پر لانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ شرکاء کو مزید ہدایت کی گئی کہ وہ چیکنگ کے دوران پکڑی گئی مشکوک گاڑیوں کے کیسز کو فوری نمٹائیں۔

اس سلسلے میں اسٹینڈنگ آپریٹنگ پروسیجر (SOP) پر عمل کرتے ہوئے عوام کی سہولت کا خیال رکھیں اور کرپشن کے امکانات کو ختم کردیں۔ اجلاس میں سرچ اینڈ سرائیک آپریشنز، حساس اور غیر محفوظ جگہوں کی سیکورٹی اقدامات کا بھی جائیزہ لیا گیا۔ اُنہیں مزید ہدایت کی گئی کہ ضلعی پولیس آفیسر تمام سکولوں ، کالجوں ، ہسپتالوں اور دیگر اہم مقامات کے بذات خود دورے کریں اور وہاں پر سیکورٹی کے حوالے سے اُٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیں۔

اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر ایک ادارے نے ایک تجربہ کار اور فرض شناس سیکورٹی انچارج کی قیادت میں سیکورٹی ٹیم مقرر کی ہو، وہاں اندر داخل ہوتے وقت ملازمین کی بائیومیٹرک سسٹم کے زریعے چیکنگ کیجا تی ہے ، CCTVکیمرے اور دیواروں کے اوپر خاردار تار یں بچھانے کا نظام ٹھیک اور درست حالت میں ہے۔اُنہیں اپنے اپنے اضلاع میں حساس مقامات کی نشاندہی کرنے اور اُن کی سیکورٹی کے لئے مناسب اقدامات اُٹھانے اور اُن کو تحریری صورت میں لانے کی بھی ہدایت کی اورشرکاء کو غیر ملکی منصوبوں کی سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے بذات خود دورہ کرنے اور سپیشل برانچ کے ساتھ ملکر پیشہ ورانہ انداز میں سیکورٹی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں پولیس کی جانب سے عوامی مفاد اور فلاح و بہبود کے لیے شروع کی گئی سکیموں پولیس اسسٹنٹ لائنز، پولیس ایکسس سروس اور تنازعات کے حل کے کونسلوں کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے ان کے بل بورڈز کو نمایاں جگہوں پر آویزاںکرکے اس کے ذریعے پولیس کا امیج مزید بہتر کرنے اور کونسلوں کے ممبران کے ساتھ مہینے میں ایک اجلاس منعقد کرانے کی بھی ہدایت کی گئی۔

اجلاس کے شرکاء کو پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود کا ہر ممکن خیال رکھنے، جوانوں کو درپیش مسائل سے آگاہی کے لیے باقاعدگی سے پولیس دربار منعقد کرانے کی بھی ہدایت کی گئی۔ اجلاس کے شرکاء کو سب ڈویژنل پولیس افسروں کا اجلاس ماہانہ کی بنیاد پر بُلا کرا نہیں امن و آمان کے قیام، اشتہاریوں کی گرفتاری، منظم جرائم کی بیخ کنی، زیر تفتیش مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، شیڈول فور کے ملزمان کو نگرانی سخت کرنے، جدید ٹیکنالوجی یعنی آئی وی ایس، وی وی ایس، سی آروی ایس کے دوبارہ جائیزہ لیکر اسکے ذریعے چیکنگ مزید مضبوط اور موثر بنانے، سی پی او سے جاری کردہ اپریشنل گائیڈ لائنز اور پالیسی گائیڈ لائنز پر اسکی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی۔