لاہور ہائی کورٹ، دو سابق وزرائے اعظم کے خلاف بغاوت کی کاروائی کیلیے دائر درخواست کی سماعت 19 نومبر تک ملتوی

پیر نومبر 23:23

لاہور ہائی کورٹ، دو سابق وزرائے اعظم کے خلاف بغاوت کی کاروائی کیلیے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) لاہور ہائی کورٹ کے فل بنچ نے دو سابق وزرائے اعظم کے خلاف بغاوت کی کاروائی کے لیے دائر درخواست کی سماعت 19 نومبر تک ملتوی کر دی۔ فل بنچ مسٹر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی مسٹر جسٹس مسعود جہانگیر اور مسٹر جسٹس عاطر محمود پر مشتمل ہے۔ شاہد خاقان عباسی اور صحافی سرل المیڈا پیش ہوئے۔ میاں نواز شریف اسلام آباد میں مصروف ہونے کی بنا پر پیش نہیں ہوئے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے نصیر بھٹہ ایڈووکیٹ کو ہدایت کی کہ میاں نواز شریف آئندہ سماعت پر عدالت حاضری کو یقینی بنائیں تاکہ فیصلہ کیا جائے۔ اٹارنی جنرل آف پاکستان آئندہ سماعت پر فل ننچ میں پیش ہو کر اس بابت پارلیمنٹ کی کی گئی کارروائی سے آگاہ کریں گے۔ فل بنچ کے روبرو شاہد خاقان عباسی کے وکیل خواجہ احمد طارق رحیم اور درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق سپریم کورٹ میں مصروف ہونے کی بنا پر پیش نہیں ہوئے۔

(جاری ہے)

دونوں وکلا کی طرف سے سماعت ملتوی کرنے کی تحریری درخواستیں دی گئیں۔ عدالت کے حکم پر میاں نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی اور سرل المیڈا کے جوابات کی روشنی میں درخواست گزار جواب داخل نہ کروا سکے ۔ فل بنچ کے حکم کے باوجود میاں نواز شریف یہان پیش ہونے کی بجائے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہونے کے لیے چلے گئے ۔ گزشتہ سماعت پر میاں نواز شریف کے پیش نہ ہونے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔

جسٹس عاطر محمود نے ریمارکس دیئے کہ میاں نواز شریف کو عدالت سے استثنیٰ لینے کے لیے درخواست دینا چاہیے تھی ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ میاں نواز شریف آتے اور عدالت حاضری معافی کی درخواست دیتے۔ گزشتہ سماعت پر میاں نواز شریف پیش نہیں ہوہے تھے۔انکے وکیل نے جواب داخل کروایا ۔ فل بنچ میں میاں نواز شریف کی ممکنہ آمد کے موقع پر سخت سیکورٹی تعینات کر دی گئی ۔

فل بنچ کے حکم پر صحافی سرل المیڈا اپنے وکیل رئوف طاہر کے ہمراہ پیش ہوں گے۔ فل بنچ نے ان کے جواب سے اتفاق کرتے ہوئے انکا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالتے ہوئے ا ن کے ورانٹ گرفتاری کے نوٹس واپس لے لیے ۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف کا انٹرویو حساس ہے۔پارلیمنٹ نے اس پر کیا ایکشن لیا۔ درخواست گزارکا موقف ہے کہ نواز شریف کیخلاف بغاوت کے الزام کے تحت کارروائی کی جائے۔ شاہد خاقان عباسی نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارروائی سابق وزیر اعظم کو بتا کر حلف کی پاسداری نہیں کی۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ وزیراعظم اور سابق وزیر اعظم کیخلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی کی جائے۔