سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ میں مزدور وں کی حمایت میں دو ترامیم بل پیش کر دئے

پیر نومبر 23:23

سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ میں مزدور وں کی حمایت میں دو ترامیم بل پیش ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) نائب صدر پاکستان پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے سینیٹ میں دو ترمیمی بلز پیش کر دئے ہیں، جن میں ایک بورڈ آف انوسٹمینٹ آرڈیننس (2001) ترمیمی بل اور دوسرہ فارن پرائیوٹ انویسٹمینٹ (پروموشن اینڈ پروٹیکشن) ایکٹ 1976 میں ترمیم شامل ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد بے روزگار اور مقامی مزدور طبقے کے حقوق کی حمایت اور تحفظ کرنا ہے۔

چیئرمیں سینیٹ نے دنوں بلز متعلقہ کمیٹیز کو اپنی سفارشات کے لئے بھیج دئے ہیں ۔فارن پرائیوٹ انویسٹمینٹ (پروموشن اینڈ پروٹیکشن)2018 ترمیمی بل کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی صنعتی ادارے میں افرادی قوت کا 60فی صد حصہ صوبے کے مقامی لوگوں کے لئے مختص کیا جائے۔ بل کے مقاصد اور وجوہات کے باری میں سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ موجودہ قانون میں اس ترمیم کو متعارف کرانے کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے تمام منصوبوں میں ہمارے مقامی لیبر کو شامل کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

یہ بل ایک طرف سرمایہ کاروں کے اخراجات کو کم کرے گا اور دوسری طرف ہماری بے روزگار افرادی قوت کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔ جبکہ بورڈ آف انوسٹمینٹ آرڈیننس ترمیمی بل (2018)میں سینیٹر شیری رحمان نے مطالبہ کیا ہے کہ بورڈ آف انوسٹمینٹ صوبوں کے لیبر فورس کی کارکردگی، تجربہ، مہارت اور صلاحیتوں کا ریکارڈ مرتب کرے۔اعداد وشمار پر مشتمل یے رکارڈ مقامی اور غیر ملکی صنعتکاروں کو پاکستان میں موجود بے روزگار لوگوں کو ملازمتیں فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سب سے بڑی مزدور قوت موجود ہے اس کے باوجود بھی بے روزگاری ہمارے ملک میں ایک سنگین مسئلہ ہے۔ پیپلز پارٹی نے قانون سازی کے ذریعہ پاکستان کے مزدور قوت کو بااختیار بنانے کیلئے تاریخی اقدامات کیے ہیں۔ 1972 میں شہید ذوالفقار علی بھٹو ہی تھے جنہوں نے مزدوروں کے حقوق پر مبنی پاکستان کی پہلی مزدور پالیسی متعارف کرائی۔ موجودہ ترامیم بھی پاکستان کی اقتصادی ترقی اور ارتقائکیلئے پارٹی کی عزم کا تسلسل ہے۔