سپریم کورٹ میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ضمانت پر رہائی کے خلاف نیب اپیل سماعت کے لیے باقائدہ منظور

فریقین کے وکلا ء کو اس معاملے پر اپنی قانونی معروضات آج ہی پیش کرنے کا حکم قانونی معروضات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ لارجر بینچ بنایا جائے یا نہیں،چیف جسٹس کے ریمارکس

پیر نومبر 23:26

سپریم کورٹ میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ضمانت پر رہائی ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) سپریم کورٹ نے نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ضمانت پر رہائی کے خلاف نیب آپیل سماعت کے لیے باقائدہ منظور کر لی،فریقین کے وکلا ء کو اس معاملے پر اپنی قانونی معروضات آج ہی پیش کرنے کا حکم۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ قانونی معروضات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ لارجر بینچ بنایا جائے یا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے نواز شریف مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی ضمانت پر رہائی کے خلاف نیب اپیل سماعت کی۔ سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ابھی ہم نے نیب کی اپیل سماعت کے لئے منظور نہیں کی، ہم نے فریقین سے تحریری معروضات مانگی تھیں، چیف جسٹس نے کہا خواجہ حارث صاحب نے تفصیلی جواب دیا ہے لیکن ہم نے نمبر کے ساتھ معروضات طلب کیں تھیں، یہ مقدمہ سماعت منظوری کا ہے، کیا لارجر بنچ بنایا جانا ہے یا نہیں اس معاملے کو دیکھنا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے خواجہ حارث صاحب آپ نے کچھ سوالات اٹھائیں ہیں۔

(جاری ہے)

خواجہ حارث بولے ضمانت دینے کی مثالیں موجود ہیں، مخصوص مقدمات پر پر ضمانت کا اطلاق انسداد دہشت گردی کیس میں کرنے کی مثال موجود ہے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ مقدمہ فوجداری کا ہے، یہ مقدمہ ضمانت کا نہیں سزا معطلی کا ہے۔ فقہ قانون میں ضمانت کی درخواست پر شواہد کا گہرائی سے جائزہ نہیں لیا جاتا، ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ گرفتاری نہ کی جائے اپیل کا ایک ماہ میں فیصلہ کیا جائے۔

ہم نے انصاف کرنا ہے، ہم ہائیکورٹ کا فیصلہ معطل بھی کر سکتے ہیں، دوران سماعت چیف جسٹس اور خواجہ حارث کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا۔خواجہ حارث نے جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے کا حوالہ دیا جس پر چیف جسٹس کہاخواجہ صاحب کیا آپ جسٹس آصف سعید کھوسہ کے فیصلے پر انحصار کررہے ہیں، آپ کو جسٹس آصف کھوسہ پر کوئی اعتراض نہیں توکیوں نہ جسٹس آصف کھوسہ کو بھی بنچ میں شامل کردیں، اس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث مسکرا دیئے۔

خواجہ حارث نے کہاآپ بات کو دوسری طرف لے گئے میں تو قانونی نقطے پر بات کررہا تھا،چیف جسٹس نے ریمارکس دیے خواجہ صاحب اب بے اعتمادی کی بیماری کو ختم ہونا چاہیے۔ خواجہ حارث بولے کوئی بے اعتمادی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہامیں نے بیرونی ملک جانا ہے کیوں نہ وطن واپسی پر مقدمہ سماعت کیلئے مقرر کر دیا جائے۔میری طبعیت بھی تب تک سنبھل جائے گی۔

چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہامجھے میرے ڈاکٹر نے کہا ہے جب خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوتے ہیں میری دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے، یہ بات ڈاکٹر نے مجھے خود بتائی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاڈاکٹرز کو ہمارے آپسی معاملات کا نہیں پتہ۔ جواجہ حارث بولیمیں امید کرتا ہوں ایسی بات نہیں ہوگی۔نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے استدعا کی کہ کیس کی سماعت دسمبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کی جائے، چیف جسٹس نے کہا خواجہ صاحب اتنی محبت سے کی گئی بات کا انکار نہیں ہوتا، عدالت نے نیب اپیل باقاعدہ سماعت کیلئے منظور کرلی اوردونو فریقین کے وکلا کواس معاملے پر اپنی قانونی معروضات آج ہی پیش کرنے کا حکم دیا۔

عدالت نے کہاقانونی معروضات کا جائیزہ لینے کے بعد فیصلہ کریں گے کہ لارجر بینچ بنایا جائے یا نہیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔۔۔ توصیف