محمدنواز شریف نے سپریم کورٹ میں زیرسماعت محکمہ اوقاف پاک پتن کی اراضی پر دکانوں کی تعمیر سے متعلق از خود نوٹس کیس میں نے اپنا جواب جمع کرادیا

پیر نومبر 23:38

محمدنواز شریف نے سپریم کورٹ میں زیرسماعت محکمہ اوقاف پاک پتن کی اراضی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 نومبر2018ء) سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ میںزیرسماعت محکمہ اوقاف پاک پتن کی اراضی پر دکانوں کی تعمیر سے متعلق از خود نوٹس کیس میں نے اپنا جواب جمع کرادیا ہے جس میں انہوں نے خود پر لگائے گئے الزامات کو حقائق کے منافی قرار دیدیاہے۔ پیرکو سابق وزیر اعلٰی پنجاب کی حیثیت سے محمد نواز شریف کی طرف سے جواب ان کے وکیل منور اقبال دوگل نے جمع کرایا۔

جس کہا گیاہے کہ نوٹیفکیشن واپس لینے کا ذمہ دار سابق چیف ایڈمنسٹریٹر یوسف خان ہے۔ اس لئے استدعا ہے کہ ا ن کوجاری نوٹس واپس لیا جائے ، سابق وزیر اعظم کی طر ف سے جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ لگ بھگ 32 سال پرانا ہے، اورریکارڈ کے مطابق محکمہ اوقاف کا نوٹفکیشن نواز شریف کے کہنے پر واپس نہیں لیا گیا، اس وقت یوسف خان ہی محکمہ آوقاف کے چیف ایڈمنسٹریٹر تھے جنہوں نے اس وقت کے وزیراعلٰی کواعتماد میں لئے بغیر اپنے طور پر نوٹیفکیشن واپس لیا تھا ۔

(جاری ہے)

یادرہے کہ عدالت نے 17 اکتوبر کو محمد نواز شریف سے بطور وزیر اعلی پنجاب جواب طلب کرتے ہوئے قراردیا تھاکہ جب معاملہ عدالت میں زیر التوا تھا تو نواز شریف کیسے نوٹیفکیشن واپس لے سکتے تھے، جبکہ نوٹس واپس لیتے ہی 15 روز کے اندر دیوان پاکپتن نے ساری جائیداد بیچ دی تھی،1986 ء میں دربار کے سجادہ نشین دیوان قطب الدین نے وزیراعظم پاکستان کو درخواست دیتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ ان کی ذاتی جائیداد کو محکمہ اوقاف لاہور نے تحویل میں لیا ہے، اس لئے ان کی ذاتی جائیداد واپس کی جائے، یہ معاملہ وزیر اعلی پنجاب کو بھجوایا گیا، تاہم غلام قطب الدین نے اپنی درخواست میں وزیراعظم کو عدالتی کارروائی سے آگاہ نہیں کیا تھا، لیکن اس کے باوجود محمد نواز شریف نے بطور وزیر اعلی شفاف طریقے سے سیکریٹری کے ذریعے سمری پر احکامات جاری کیے، تاہم اس وقت کے محکمہ اوقاف کے سیکریٹری محمد یوسف خان نے اپنی ہی سمری سے اختلاف کیا تھا جبکہ وزیر اعلی نے نوٹیفیکیشن کی واپسی کا حکم نہیں دیا تھا ا س لئے اس وضاحتی جواب کو منظور کرکے جاری نوٹس خارج کیا جائے۔