نوازشریف،مریم نوازاورکیپٹن(ر)صفدرکی رہائی کےخلاف نیب اپیل کامعاملہ

سپریم کورٹ نے نیب اپیل پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم جاری کردیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس پیر نومبر 23:59

نوازشریف،مریم نوازاورکیپٹن(ر)صفدرکی رہائی کےخلاف نیب اپیل کامعاملہ
اسلام آباد(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر 2018ء) نوازشریف،مریم نوازاورکیپٹن(ر)صفدرکی رہائی کےخلاف نیب اپیل پر سپریم کورٹ نے لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کے خلاف نیب کی اپیل پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم جاری کر دیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں3 رکنی بنچ نےنیب اپیل کی سماعت کی تھی۔

عدالت نے فریقین کےمعروضات کاجائزہ لینےکےبعدمقدمہ لارجر بنچ کےسامنےمقررکرنیکاحکم دیا ہے۔لارجربینچ تشکیل دینےکامختصرفیصلہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثارنےتحریرکیاہے۔سپریم کورٹ نےفریقین کےوکلاسےلارجربنچ تشکیل دینےسےمتعلق معروضات طلب کی تھیں۔فیصلےمیں لارجربینچ جن سوالات پرغور کرےگا وہ بھی دے دیےگئے۔

(جاری ہے)

فیصے میں یہ سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

اگرٹرائل عدالت کےپاس ضمانت کااختیارنہ ہوتوکیاآئینی درخواست دائرکی جاسکتی ہے؟کیاآئینی درخواست میں ضمانت کی وجوہات وہی ہوسکتی ہیں جو عام قانون میں ہیں؟کیاآئینی درخواست کےذریعےسزامعطلی کااسکوپ عام قانون میں ضمانت کےاسکوپ سےبڑاہے؟سزا معطلی کے فیصلے میں شواہد کے سرسری جائزے کی کیا بنیاد ہے؟سرسری جائزے اور باریک بین جائزے میں کیا فرق ہے؟کیا سزامعطل کرکےمجرم کوضمانت پررہاکیاجا سکتاہے؟کیاضابطہ فوجداری کی دفعہ426کےتحت نیب قانون میں سزامعطل کی جاسکتی ہے؟کیااسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب آرڈیننس کی دفعہ9بی کی درست تشریح کی ہے؟کیااسلام آباد ہائیکورٹ نےنیب آرڈیننس کی دفعہ9اےفائیواور14سی کی کمزورتشریح کی؟کیااسلام آباد ہائیکورٹ سزامعطلی کی درخواست سن سکتی تھی جب اپیلیں زیرالتواتھیں؟کیا مقدمے کے میرٹس پر بات کی جاسکتی تھی؟ لارجر بینچ ان تمام سوالوں کے جواب تلاش کرے گا۔

یاد رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے نواز شریف ، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطل کرکے انکی رہائی کا حکم دیا تھا۔