بنی گالا تجاوزات ،ْ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے، نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی ،ْ چیف جسٹس

منگل نومبر 14:10

بنی گالا تجاوزات ،ْ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے، نہ ہی صلاحیت ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بنی گالہ میں تجاوزارت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے، نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی۔ منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سی ڈی اے کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق 1960 کے نقشے کے مطابق بنی گالہ کے زون 4 میں سڑکیں ہیں، 1992 اور 2010 میں ترمیم کی گئی اور زون 4 کے کچھ علاقے میں نجی ہائوسنگ سوسائٹیوں کو بھی اجازت دی گئی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ابھی کافی سارا سرسبز علاقہ موجود ہے جس کو بچایا جاسکتا ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے اس علاقے میں سڑکیں اور سیوریج بنانی ہیں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ موجودہ حکومت کے پاس نہ تو اہلیت ہے نہ ہی صلاحیت اور نہ ہی منصوبہ بندی، ممکن ہے کہ آپ زیر زمین بجلی کی لائنیں بچھائیں اور ٹرینیں بھی چلانا چاہیں، اس کیلئے بھی آپ کو زمین چاہیے، چونکہ بہت ہی نیا پاکستان بن رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ جن کیسز کا نوٹس لے رکھا ہے وہ ادھورے چھوڑ کر نہیں جائیں گے بلکہ ان کا فیصلہ کر کے جائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بنی گالہ میں سہولیات کیلئے زمین چاہیے، منصوبہ بندی کے تحت ڈیویلپمنٹ کرنا ہے تو زمین خریدنی پڑیگی ،ْ مالکان کو ازالہ ادا کرنا پڑیگا اور ریگولرائزیشن کے لیے پیسے دینا ہوں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اگر نیا شہر بنانا چاہتے ہیں تو سی ڈی اے زمینیں حاصل کرے، اس موقع پر نمائندہ سروے جنرل آف پاکستان نے عدالت کو بتایا کہ 3.42 ملین سی ڈی اے اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (آئی سی ٹی) نے دینے ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ سی ڈی اے نے ادائیگی کی منظوری دے دی ہے، کچھ پیسے پنجاب حکومت نے بھی دینے ہیں۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سروے جنرل آف پاکستان کو ایک مہینے میں ادائیگی کی جائے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ تحفظ ماحولیات کے حق میں سول عدالت کا دیا ہوا فیصلہ نہیں مل رہا جس پر سپریم کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی۔