الیکشن کمیشن کا 6 سیاسی جماعتوں کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس

مسلم لیگ (ن) ،پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین ،پاکستان راہِ حق پارٹی، متحدہ مجلس عمل تحریک انصاف (نظریاتی) اور تحریک لبیک اسلام شامل الیکشن ایکٹ 2017 میں خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ایک قانون بنایا گیا اس قانون کا نفاذ الیکشن کے عمل کے دوران کیا جانا چاہئے ،ْ پیپلز پارٹی

منگل نومبر 15:58

الیکشن کمیشن کا 6 سیاسی جماعتوں کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) نے عام انتخابات میں خواتین کو جنرل نشستوں پر 5 فیصد ٹکٹ نہ دینے کے خلاف نوٹس پر جواب جمع نہ کروانے والی 6 بڑی سیاسی جماعتوں کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔جن جماعتوں کو نوٹس جاری کیا گیا ان میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ،پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین ،پاکستان راہِ حق پارٹی، متحدہ مجلس عمل پاکستان تحریک انصاف (نظریاتی) اور تحریک لبیک اسلام شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ عبدالغفار سومرو کی سربراہی میں دو رکنی کمیشن نے مذکورہ معاملے کی سماعت کی۔اس موقع پر راہ حق پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف نظریاتی کے وکلاء اور متحدہ مجلس عمل کے وکیل کامران مرتضی کے ایسوسی ایٹ الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے جبکہ تحریک لبیک اسلام کی طرف سے الیکشن کمیشن میں کوئی پیش نہ ہو سکا۔

(جاری ہے)

پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے فرحت اللہ بابر اور نئیر حسین بخاری جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے آفس سیکریٹری الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے جس پر الیکشن کمیشن کے رکنِ پنجاب الطاف ابراہیم قریشی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ کیا آپ کے وکیل کبھی پیش ہوں گی ہر بار آپ آ جاتے ہیں اتنی بڑی جماعت ہے، کوئی وکیل نہیں ہی آپ آئندہ مت آیا کریں، الیکشن کمیشن کو سیر گاہ بنایا ہوا ہے۔

دوران سماعت رکنِ سندھ نے راہِ حق پارٹی اور پی ٹی آئی نظریاتی کے وکلا سے استفسار کیا کہ کیا آپ کے لوگ قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر منتخب ہوئے ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ ان کی جماعت کا کوئی امیدوار انتخابات میں کامیاب نہیں ہوا اور یہ غیر پارلیمانی جماعتیں ہیں۔اس موقع پر ایم ایم اے کے وکیل کا کہنا تھا کہ ہم نے پورے پاکستان میں خواتین کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ دئیے ہیں اس حوالے سے ہم نے جواب تیار کیا ہے وہ جمع کروادیتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ قانون میں صوبے کی سطح پر خواتین کو جنرل نشست پر کوٹہ دینا ہے جس پر نیئر حسین بخاری نے کہا کہ آپ 206 کی تشریح کر دیں، اس کے مطابق بات آگے بڑھے گی۔نیئر بخاری کا کہنا تھا کہ جب الیکشن ہو رہے ہوں تب اس سیکشن پر عمل کرنا چاہیے تھا،پارلیمنٹ نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، اب انتخابی نشان روکنے کا کیا مقصد ہی جس پر الیکشن کمیشن نے جواب نا جمع کرانے والی جماعتوں کو دوبارہ نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 10 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

بعد ازاں پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے باہر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے ایک قانون بنایا گیا اس قانون کا نفاذ الیکشن کے عمل کے دوران کیا جانا چاہیئے۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابی نشانات الاٹ کرنے کے وقت اس سیکشن کا استعمال کیا جاتا،کسی جماعت نے اگر قانون پر عمل نہیں کیا تو اس کو انتخابی نشان نا جاری کیا جاتا۔اب سیاسی جماعتوں کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا کیا فائدہ جب پارلیمنٹ نے کام شروع کر دیا اور ارکان منتخب ہو گئے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پورے ملک میں نے 5 فیصد سے زائد خواتین کو جنرل نشستوں پر ٹکٹ دئیے اس سلسلے میں ہم نے اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔