سعد رفیق کی لاہورہائیکورٹ میں ڈی جی نیب کیخلاف درخواست دائر

ڈی جی نیب شہزاد سلیم ن لیگ کیخلاف پارٹی بن گئے، ایک جانبدار شخص تفتیش کیسے شفاف کرسکتا ہے؟ ن لیگی رہنماؤں کی تفتیش کسی دوسرے آفیسر کے پاس لگائی جائے۔ ن لیگی رہنماء خواجہ سعد رفیق کا مئوقف

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ منگل نومبر 15:30

سعد رفیق کی لاہورہائیکورٹ میں ڈی جی نیب کیخلاف درخواست دائر
لاہور(اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر 2018ء) پاکستان مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنماء خواجہ سعد رفیق نے لاہور ہائیکورٹ میں ڈی جی نیب شہزاد سلیم کیخلاف درخواست دائر کردی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے درخواست میں مئوقف اختیار کیا ہے کہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم کے انٹرویو سے واضح ہوگیا کہ وہ ن لیگ کیخلاف پارٹی بن گئے ہیں،ایک جانبدار شخص تفتیش کیسے شفاف کرسکتا ہے؟ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کے متنازع انٹرویو نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔

جس کے باعث اپوزیشن جماعتوں نے شہزاد سلیم کیخلاف قومی اسمبلی میں تحریک استحقاق بھی پیش کی۔ جبکہ چیئرمین نیب نے ان کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیا اور پیمرا سے ان کے انٹرویو کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا کہ انٹرویو کا جائزہ لیا جائےگا اگر انٹرویو میں کوئی خلاف ضابطہ بات ہوئی تو کاروائی کی جائے گی۔

(جاری ہے)

چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے افسران کے میڈیا اداروں کو انٹرویوز پرپابندی عائد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ صرف ترجمان نیب موقف دینے کے مجاز ہوں گے۔

تمام معززاراکین اسمبلی کا احترام کرتے ہیں۔ ڈی جی نیب لاہورکے انٹرویوکا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا گیا ہے۔ ڈی جی نیب کے انٹرویوکا قانون کے مطابق جائزہ لیا جائےگا۔ تاہم آج خواجہ سعد رفیق نے لاہور ہائیکورٹ میں ڈی جی نیب شہزاد سلیم کیخلاف درخواست دائر کردی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے درخواست میں مئوقف اختیار کیا ہے کہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم ن لیگ کیخلاف میڈیا ٹرائل کررہے ہیں جبکہ انکوائری کی کہانیاں بھی پیش کررہے ہیں۔ جس سے ان کی جانبداری پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ سعد رفیق نے لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی بجائے کسی اور آفیسر کے پاس ن لیگی رہنماؤں کے کیسز لگائے جائیں۔