ملک بھر کے 13 ہزار ڈاکخانے اور 43 ہزار ملازمین پاکستان کے قومی خزانے میں سالانہ 100 ارب روپے ریونیو جمع کروائیں گے، آن لائن (ای منی آرڈر) 50ہزار روپے تک رقوم کی ترسیل اسی روز گھرکی دہلیز پر پہنچانے کی سہولت شروع کردی گئی ہے

وزیر مملکت برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید کا جی پی او میں تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو

منگل نومبر 16:01

ملک بھر کے 13 ہزار ڈاکخانے اور 43 ہزار ملازمین پاکستان کے قومی خزانے میں ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) وزیر مملکت برائے مواصلات و پوسٹل سروسز مراد سعید نے کہا ہے کہ ملک بھر کی13ہزار ڈاکخانے اور 43 ہزار ملازمین پاکستان کے قومی خزانے میں سالانہ 100 ارب روپے ریونیو جمع کروائیں گے، ڈیجیٹل پوسٹل کے تحت آن لائن (ای منی آرڈر) 50ہزار روپے تک رقوم کی ترسیل اسی روز گھرکی دہلیز پر پہنچانے کی سہولت شروع کردی گئی ہے۔

ان خیالات کااظہار مراد سعید نے منگل کو جی پی او اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ ڈاک میں گزشتہ حکومتوں نے لوٹ مار کی اور جان بوجھ کر اسے تباہ و برباد کیاگیا جس سے اس محکمے کا سالانہ خسارہ 10 ارب تک پہنچ گیا، وزیر اعظم عمران خان نے ہمیں یہ سیکھایا کہ اداروں کی صحیح سمت کا تعین کیا جائے اور کچھ کرنے کی لگن کو جگایا جائے تو کوئی کام ناممکنات میں سے نہیں ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ ملک بھر میں جتنا بڑا نیٹ ورک محکمہ ڈاک خانہ جات کے پاس ہے کسی دوسری سروس کے پاس نہیں، 13ہزار ڈاکخانے ملک کے طول وعرض میں پھیلے ہوئے ہیں جس کے 43 ہزار ملازمین چائنہ بارڈر کے ساتھ آخری گائوں سے لے کر دیگر دیہی اور شہری علاقوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دو ہفتوں میں ہم نے محکمے کے اندر دو سروسز کاآغاز کیا تو ریونیو میں 58 ملین روپے کااضافہ ہوا۔

انہوں نے کہاکہ محکمہ ڈاک اپنے نیٹ ورک سے استفادہ کرتے ہوئی93 جی پی اوز میں ترسیلات زر کے لئے الیکٹرانک منی آرڈر سسٹم شروع کرچکا ہے، ابتدائی طورپر یہ سہولت 25 شہروں میں میسر ہوگی، دھیرے دھیرے اس کا دائرہ پورے ملک میں پھیلا دیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ کوئی دوسرا محکمہ گھر کی دہلیز پر منی آرڈر کی رقم پہنچانے کا اس سے پہلے نظام نہیں رکھتا۔

محکمہ ڈاک کو یہ برتری حاصل ہو گی کہ وہ لوگوں کی دہلیز پر ان کی خدمت کا شرف حاصل کررہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ الیکٹرانک منی آرڈر کی ترسیل دوسرے اداروں کے مقابلے میں کم نرخوں پر سہولت فراہم کرے گا اور دوسرے اداروں کے مقابلہ میں 25ہزار کی بجائے 50 ہزار روپے کی رقم منی آرڈر کے ذریعے اسی روز بھیجی اور وصول کی جاسکے گی۔ انہوں نے کہاکہ آنے والے دنوں میں مزید سہولیات کا آغاز کریں گے۔

محکمہ ڈاک کو ڈیجیٹلائز، تشکیل نو اور مارکیٹنگ کے شعبوں میں انقلاب لائیں گے جس سے ادارہ کا خسارہ ختم کردیا جائے گا۔ دریں اثناء ’’اے پی پی‘‘ سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ محکمہ پوسٹل سروسز میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں، دنیا دیکھے گی کہ یہ محکمہ خسارہ ختم کرنے کے بعد سالانہ ایک سو ارب روپے ریونیو حکومت کو دینے کے قابل ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ملازمین کو تنگ نہیں کیاجائے گا بلکہ ان کے روزگار کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں صحیح سمت میں ڈائریکشن دی جائے گی اور انہی لوگوں سے کام لے کر اس محکمے کو عظیم سے عظیم تربنایا جائے گا۔

انہوں نے کہاکہ اس وقت پوسٹل مارکیٹ 80 ارب روپے کی ہے جس میں آنے والے دنوں میں اضافہ ہوگا۔ پوسٹل کے شعبہ میں جو بھی جدید ٹیکنالوجی دستیاب ہو گی سب سے پہلے محکمہ ڈاکخانہ کو وہ فراہم کی جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ محکمے میں کالی بھیڑوںکو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا، ماضی میں بعض افسران محکمے کے ذریعے منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تھے لیکن اب ایسا نہیں ہوسکے گا، جزااور سزا کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، ہماری حکومت نے احتساب کے نام پر لوگوںکا اعتماد حاصل کیا اور انشاء اللہ ہم کسی بھی طرح سے عوام کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میںانہوں نے کہاکہ جو ڈاک خانے اور ملازمین بہتر خدمات سرانجام دیں گے ان کو جزا سے نوازاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ مارکیٹ میں 135 ارب کا کمرشل پوٹینشل موجود ہے۔ محکمہ کے اندر خامیوں اور خوبیوں سے متعلق تفصیلات طلب کی گئی ہیں، بہت جلد یہ محکمہ قوم اور ملک کافخر ثابت ہوگا۔