پاکستان میں دیہات کی ترقی شہروں کے مقابلے میں بہت سست ہے ، عالمی بینک

غربت میں کمی ہوئی تاہم غربت کے حوالے سے دیہی اور شہری علاقوںمیں بہت فرق ہے ، رپورٹ پوری دنیا میں 25 سال میں 70 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے اوپر آگئے ہیں، اقوام متحدہ

منگل نومبر 16:43

پاکستان میں دیہات کی ترقی شہروں کے مقابلے میں بہت سست ہے ، عالمی بینک
واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) عالمی بینک کاکہنا ہے کہ پاکستان میں غربت میں کمی ہوئی ہے تاہم غربت کے حوالے سے دیہی اور شہری علاقوں کے فرق میں اضافہ ہوا ہے۔ دیہات میں ترقی کی شرح بھی شہروں کے مقابلے میں سست ہے ۔تفصیلات کے مطابق عالمی بینک نے پاکستان سے متعلق رپورٹ جاری کردی ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غربت میں کمی ہوئی ہے تاہم شہری اور دیہی علاقوں میں غربت کے فرق میں اضافہ ہورہاہے، پاکستان کے دیہی علاقے شہری علاقوں سے زیادہ غربت کا شکار ہیں۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ شہری علاقوں میں زیادہ تیزی سے غربت میں کمی آئی ہے، ہر 5افراد میں سی4آج بھی دیہی علاقے میں رہتے ہیں، دیہی علاقوں میں سہولتوں تک رسائی اورمعاشی ترقی کی شرح کم ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 15سال میں پاکستان میں غربت تقریباآدھی رہ گئی ہے، 2001 میں غربت کی شرح 64 فیصد تھی جو اب 30 فیصد رہ گئی ہے، غربت میں سب سیزیادہ کمی خیبرپختونخوا میں ہوئی ہے اور صحت کی سہولتوں کیحصول میں بھی بہتری آئی ہے۔

خیال رہے عالمی اداروں کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں غریب افراد کی تعداد 3 ارب کے قریب ہے۔ ان افراد کی یومیہ آمدنی ڈھائی ڈالر سے بھی کم ہے جبکہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ 25 سال میں 70 کروڑ افراد غربت کی لکیر سے اوپر آگئے ہیں۔ماہرین کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہی ہے جس کی وجہ مہنگائی میں روز بروز اضافہ، دولت کی غیر مساوی تقسیم، وسائل میں کمی، بے روزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔