جہاں کئی عدالتی فیصلوں پر ہم تنقید کرتے ہیں وہاں کئی فیصلوں میں اداروں کو طاقت بھی ملتی ہے اور ہم انہیں سراہتے ہیں، وزیربلدیات سندھ

کراچی سے تجاوزات کے عدالتی فیصلے کو صدر یا مخصوص علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اسے پورے شہر اور پورے صوبے میں نافذ ہو، سعید غنی کی میڈیا سے گفتگو

منگل نومبر 19:17

جہاں کئی عدالتی فیصلوں پر ہم تنقید کرتے ہیں وہاں کئی فیصلوں میں اداروں ..
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) وزیر بلدیات و کچی آبادی سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ جہاں کئی عدالتی فیصلوں پر ہم تنقید کرتے ہیں وہاں کئی فیصلوں میں اداروں کو طاقت بھی ملتی ہے اور ہم انہیں سراہتے ہیں۔ ہم کراچی سے تجاوزات کے عدالتی فیصلے کو صدر یا مخصوص علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اسے پورے شہر اور پورے صوبے میں نافذ ہو اوریہ محدود مدت تک نہ ہو یہ بھی چاہتے ہیں۔

ہم اس اقدام میں مئیر کی کاوشوں کو بھی سراہتے ہیں اور جہاں غلطی یا زیادتی ہوئی ہے اس کا ازالہ بھی کریں گے۔ کمشنر کراچی کی سربراہی میں ان دکانوں کے متاثرین کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور ہم ان کے روزگار کے لئے اقدامات کریں گے۔اس آپریشن کا سیاسی ہونے کا تاثر دینا بالکل غلط ہے۔

(جاری ہے)

کراچی میںقانونی نہیں بلکہ تعمیرات کے باعث مسائل پیدا ہوئے ہیں اور اس کی روک تھام کے لئے سخت احکامات دئیے جاچکیں ہیں۔

شہر میں جو غیر قانونی تعمیرات قائم ہوکر وہاں رہائش ہوگئی ہے ان کو توڑنا ممکن نہیں البتہ مزید ایسی عمارتیں جو تیار ہیں اور ان میں رہائش نہیں ان کے خلاف آپریشن جاری ہے اور اسے مزید تیز کیا جائے گا۔ کراچی میں پانی کی قلت کا سامنا ہے اور اس کی منصفانہ تقسیم کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں 100 فیصد تو میں دعوی نہیں کرتا البتہ اس میں کسی حد تک بہتری ضرور آئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز سندھ اسمبلی میں ایوزیشن رکن سید عبدالرشید کی جانب سے پیش کردہ پرائیویٹ قرارداد کے جواب اور بعد ازاں اسمبلی کے باہر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر سعید غنی نے اپوزیشن رکن سید عبدالرشید کی جانب سے لیاری میں اونچی عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کرنے کی پرائیویٹ قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے علاقوں میں جہاںجگہ کی کمی ہو یا قانون کے مطابق وہاں اونچی عمارتوں کی تعمیر کی اجازت نہ ہو وہاں تو قانون ہے کہ عمارتیں نہیں بن سکتی لیکن یہ کہنا کہ کسی مخصوص علاقے میں یا شہر بھر میں اونچی عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کرنا یہ قانون کے بھی خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم تعمیرات روکنے کے حق میں نہیں بلکہ اسے قانونی طور پر بنانے کے حق میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل قانونی عمارتوں سے نہیں بلکہ غیر قانونی عمارتوں کے باعث پیدا ہوتے ہیں اور آج شہر میں اگر یہ مسائل ہیں تو اس کے ذمہ دار ماضی میں وہ لوگ ہیں جنہوں نے بغیر اجازت کے شہر میں اونچی عمارتوں کا جھال پھیلا دیا ہے۔ سعید غنی نے کہا کہ میں نے اپنی وزارت کا حلف لینے کے پہلے ہی روز سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو شہر میں تمام غیر قانونی عمارتوں کی تعمیرات کو روکنے اور انہیں منہدم کرنے کے احکامات دئیے ہیں اور یہ آپریشن روزانہ کی بنیاد پر ایس بی سی اے کررہا ہے اور ہم ایسی عمارتیں جس میں لوگ آباد نہیں ہیں انہیں تو منہدم کرسکتے ہیں لیکن وہ عمارتیں کو ماضی میں ہزاروں کی تعداد میں تعمیر کی گئی ہیں اور ان میں اب رہائش ہے ان کو منہدم نہیں کیا جاسکتا۔

صوبائی وزیر نے معزز اپوزیشن رکن سے استدعا کی کہ وہ اپنی قرارداد واپس لے لیں اور میں انہیں یقین دہانی کراتا ہوں کہ شہر میں اب خلاف ضابطہ کوئی تعمیرات نہیں ہوگی اور جن جن علاقوں میں اونچی عمارتوں کی تعمیرات ممکن نہیں وہاں یہ تعمیر نہیں ہونے دی جائیں گی اور اس سلسلے میں پورا ایوان بھی ان کے ساتھ اس کے خلاف میرا ساتھ دے۔ بعد ازا ں معزز رکن نے اپنی قرارداد واپس کے لی۔

بعد ازاں اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا کہ آج اپوزیشن کی خاتون رکن نصرت عباسی کی جانب سے ایک نامناسب قرارداد پیش کی گئی اور اس کی مخالفت پر انہوں نے ایوان کے ماحول کو خراب بھی کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی ویلفیئر کے حوالے سے بنائی گئی کمیٹی کو غیر قانونی قرار دینا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کمیٹی میں منتخب ایم این اے اور سینیٹرز ہیں ۔ انہوں نے کہ منتخب ارکان کوغیر قانونی تعینات قرار دینا کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں سعید غنی نے کہا کہ اصل میں اپوزیشن کے ارکان یہ چاہتے ہیں کہ اس کمیٹی کے ممبران ان کی مرضی اور ان کی پارٹی سے لئے جائیں جو کہ ان کا نہیں بلکہ حکومت کا استحقاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2008 میں بھی اسٹیڈنگ کمیٹیوں میں نہ صرف اپوزیشن ارکان کو ان کے تناسب سے نمائندگی دی بلکہ پہلی بار تناسب کے حساب سے انہیں کئی کمیٹیوں میں چئیرمین شپ بھی دی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ بھی بننے والی اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں تناسب سے انہیں نمائندگی اور چیئرمین شپ دی جائے گی۔ ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر بلدیات نے کہا کہ کراچی میں تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن ٹھیک ہے اور کچھ شکایات ضرور آئی ہیں جس پر ہم نے اس کو دیکھ کر اس کے ازالے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوںنے کہا کہ دکانداروں کے حوالے سے کمشنر کراچی کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جو ان کے روزگار کے حوالے سے اپنی رپورٹ مرتب کرکے وزیر اعلیٰ سندھ کو پیش کرے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ یہ آپریشن سیاسی بنیاد پر اس کی آڑ میں سیاسی انتقامی کارروائیاں کی جارہی ہیں یہ درست نہیں ہے۔ یہ آپریشن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی ہدایات پر مئیر کراچی کررہے ہیں اور ہم مئیر کو سپورٹ کرتے ہیں البتہ اگر غلطی سے کسی کے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے تو ہم اس کا ازالہ بھی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن صدر تک نہیں بلکہ پورے شہر اور صوبہ سندھ تک ہونا ہے اور ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ یہ محدود مدت نہیں بلکہ ہمیشہ کے لئے ہو تاکہ اس سے اس شہر اور صوبے کے عوام کو فائدہ ہو۔

شہر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گذشتہ روز بھی میں نے اسمبلی کے فلور پر کہا تھا کہ کراچی میں پانی کی قلت ہے اور ہماری کوشش ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے جاری اسکیموں کو تیز کریں اور جب تک اسکیمیں مکمل نہیں ہوتی ہم نے منصفانہ تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔ ہم نے بلدیہ ٹائون کے لئے 400 ملین روپے سے ایک علیحدہ لائن پر کام شروع کیا ہے اور انشاء آئندہ چند روز میں اس لائن کے ذریعے بلدیہ ٹائون کے ان علاقوں میں جہاں 2 سے 3 ماہ میں پانی آتا ہے وہاں پر اس دورانیہ میں کمی آئے گی لیکن میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ ہماری کاوشوں کے 100 فیصد نتائج نہیں مل رہے لیکن بہتری ضرور آرہی ہے۔