حکومت کا وفاقی دارلحکومت کا ماسٹر پلان 58سال بعد تبدیل کرنے کا فیصلہ

وزیر اعظم نے خصوصی طور پر اسلام آباد کا ماسٹر پلان تین سے چھ ماہ کے دوران تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کردی ہیں، کمیشن بھی تشکیل دیا جائے گا،شہریارآفریدی تمام متاثرین کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے،غیر قانونی تجاوزات کرنے والوں اور اسلام آباد کو اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ بنانے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے ،اسلام آباد کو قبضہ مافیا سے نجات دلائی جائے گی، وزیر مملکت داخلہ کی پریس کانفرنس اس وقت اسلام آ باد میں پانی کا مسئلہ ہے، پلان تبد یل کر کے اسلام آباد کے شہریوں کو ان کے حقوق ترجیح بنیادوں پر دیئے جائیں گے، ہر مافیا کے خلاف پکا ہاتھ ڈال کر کام کر رہے ہیں ،علی اعوان

منگل نومبر 22:25

حکومت کا وفاقی دارلحکومت کا ماسٹر پلان 58سال بعد تبدیل کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وفاقی دارلحکومت کا ماسٹر پلان 58سال بعد تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیاہے،وزیر مملکت اخلہ شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ سی ڈی اے کا ماسٹر پلان تبدیل کرنے کیلئے چئیرمین سی ڈی اے سے وزیراعظم کی تفصیلی ملاقات ہوئی جس کے مطابق تمام متاثرین کو ان کے حقوق دیئے جائیں گے،غیر قانونی تجاوزات کرنے والوں اور اسلام آباد کو اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ بنانے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے ، اسلام آباد کو قبضہ مافیا سے نجات دلائی جائے گی، جبکہ وزیر اعظم کے معا ون خصوصی برائے سی ڈی اے علی اعوان نے کہا ہے کہ اس وقت اسلام آ باد میں پانی کا مسئلہ ہے، پلان تبد یل کر کے اسلام آباد کے شہریوں کو ان کے حقوق ترجیح بنیادوں پر دیئے جائیں گے، ہر مافیا کے خلاف پکا ہاتھ ڈال کر کام کر رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

منگل کے روز مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ چھ لاکھ آبادی کیلئے تیارکیا گیا ماسٹر پلان پر بائیس لاکھ سے زائد کی عوام کیسے گزارہ کر سکتی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ1960میں اسلام آباد کا ماسٹر پلان 20سال کے لئے بنا تھا جسے اگلے بیس برس بعد دوبارہ تبدیل کرنا تھا تاہم سابقہ حکومتوں کی کاہلی اور اسلام آباد کی عوام کی بدقسمتی کے باعث 58گزرنے کے بعد بھی اسے تاحال تبدیل نہ کیا گیا اسی وجہ سے پاکستان کے دارلحکومت کو پینے کا پانی ،تعلیم ،صحت اور انفراسٹرکچر جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے جبکہ انہوں نے بتایا کہ تاریخ میں پہلی بار وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی ای)نے پاکستان کے وزیر اعظم کو نوٹس بھیجا ۔

وزیر مملکت داخلہ نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت غیر قانونی تجاوزات کرنے والوں اور اسلام آباد کو اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ بنانے والوں کو عبرت کا نشان بنا دیں گے ۔ شہریار آفریدی نے بتایا کہ سی ڈی اے کا ماسٹر پلان تبدیل کرنے کے لئے آج وزیراعظم عمران کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں چیئر مین سی ڈی اے نے بھی شرکت کی اجلاس کے دوران وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے خصوصی طور پر اسلام آباد کا ماسٹر پلان تین سے چھ ماہ کے دوران تبدیل کرنے کی ہدایات جاری کردیں جبکہ اس مقصد کیلئے کمیشن بھی تشکیل دیا جائے گا۔

جس کا سربراہ متعلقہ شعبہ میں ماہر ہو گا انہوں نے بتایا کہ اس وقت اسلام آباد کی حالت آبادی بڑہنے کی وجہ سے انتہائی خراب ہو گئی ہے شہریوں کو پینے کے صاف پانی،صحت کی سہولیات میسر نہیں ہیں جبکہ ماسٹر پلان 58سال پرانا ہونے کے باعث اسلام آباد کا انفر اسٹرکچر بھی نہایت ناقص ہے بدقسمتی سے سی ڈی اے اور انتظامیہ کے چند افسران و ملازمین کی پشت پناہی حاصل ہونے کی وجہ سے قبضہ مافیا نے اسلام آباد کو اسٹیٹ انڈر اسٹیٹ کی شکل دیدی ہے ۔

سابقہ حکومتوں کی نہ اہلی کی وجہ سے اسلام آباد میں جگہ جگہ تجاوزات ہوتی رہی ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ متاثرین کو ان کے مکمل حقوق دئے جائیں گے انہوں نے کہا کہ بحریہ اینکلیو سے 33ہزار کنال واگزار کی گئی ہم ہر مافیا کے خلاف پکا ہاتھ ڈال کر کام کر رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت نے کہا کہ ہم نے پہلی بار دو موضع جات سے 330 کنال اراضی واگزار کرائی ہے انہوں کہا کہ ہم اسلام آباد کے متاثرین کے مسائل کے حل کے لئے کوشاں اور بہت جلد اس مسلے کے لئے چئیرمین سی ڈی اے سے مل کر حل تلاش کریں گے ۔

انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا خواہ تحریک انصاف سے ہی کیوں ہو ہم آ نہیں نہیں چھوڑیں گے اسکی پلان کی تیاری میں ایک کمیشن بنایا جائے گا اور یہ3سے 6 ماہ میں مکمل ہو جائے گا۔اس موقع پر جی سیون کے قبضہ گروپ کے حوالے سے علی اعوان نے کہا کہ ہم قبضے کرنے والوں کے خلاف آپریشن کر رہے ہیں نہ کہ غریبوں کے گھرگرانے کا۔ پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے حوالہ سے شہر یار آفریدی نے کہا کہ جتنے لاپتہ افراد ہیں ان کے لئے وزیراعظم پاکستان نے ایک پالیسی بنائی ہے جو بہت جلد کام کرے گی۔

غیر قانونی سوسائٹیوںکے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اس مافیا کے خلاف کام شروع کردیا ہے اور کسی جعلی سوسائٹی ہولڈر کو معافی نہیں ملے گی آپریشن رکے گا نہیں آگے بڑھے ،گا قانون صرف غریبوں کے لئے نہیں بنا ۔انہوں نے بتایا کہ ہماری حکومت نے ایسی نجی سوسائٹی کے خلاف کاروائی کی ہے جس سے گزشتہ حکومتیں سوال کرنے سے بھی گھبراتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ تاریخ میں پہلی بار وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی ای)نے پاکستان کے وزیر اعظم کو نوٹس بھیجا جس کی ماضی میں کہیں مثال نہیں ملتی۔ان کا کہنا تھا کہ اداروں میں بیٹھے ہوئے بدعنوان افراد کے خلاف تفتیش جاری ہے تمام ثبوت و شواہد ملنے کے بعد وزارت ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے اپنے فرائض پورے کرے گی۔۔ ۔۔۔ذیشان کمبوہ/شیرازراٹھور