سپریم کورٹ کا پانی بیچنے والی کمپنیوں کو زیر زمین نکالے گئے پانی پر ایک روپیہ فی لیویز کی مد میں ٹیکس ادا کرنے کا حکم

چاہے منرل واٹر کمپنیاں بند کردیں ،ْصنعت کیلئے قوم کا نقصان نہیں کرسکتے ،ْسپریم کورٹ زیر زمین پانی آلودہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ،ْاعتزاز احسن اور دوسرے بڑے وکلاء نے فیسیں لے لی ہیں اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے، کسی نے منرل واٹر کہا تو ناراض ہوجاؤں گا، اس کو منرل نہیں بوتل میں بند پانی کہنا چاہیے ،ْہم گھڑے کا پانی پی لیں گے ،ْریمارکس دریائے سندھ کے پانی سے بیکٹیریا ختم کر دیا جائے تو یہ بوتلوں سے ہزار گنا بہتر پانی ہے ،ْپروفیسر حسن صدیقی کی بریفنگ

منگل نومبر 22:55

سپریم کورٹ کا پانی بیچنے والی کمپنیوں کو زیر زمین نکالے گئے پانی پر ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) سپریم کورٹ آف پاکستان نے پانی بیچنے والی کمپنیوں کو زیر زمین نکالے گئے پانی پر ایک روپیہ فی لیویز کی مد میں ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے منرل واٹر کمپنیوں سے زیر زمین پانی کی مد میں چارجز وصولی کیس میں کہا ہے کہ یہ معاملہ اب ٹیکس سے بڑھ کر اسکینڈل کی شکل اختیار کر گیا ہے ،ْ آپ لوگ چاہے کمپنیاں بند کر دیں لیکن زیر زمین پانی آلودہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ،ْ اعتزاز احسن اور دوسرے بڑے وکلاء نے فیسیں لے لی ہیں اب فیصلہ ہم نے کرنا ہے، کسی نے منرل واٹر کہا تو ناراض ہوجاؤں گا، اس کو منرل نہیں بوتل میں بند پانی کہنا چاہیے۔

منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالتی بینچ نے منرل واٹر کمپنیوں سے زیر زمین پانی کی مد میں چارجز وصولی کیس کی سماعت کی ۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ اربوں روپے کا پانی نکال لیا گیا، اس لوٹ مار کا حساب کون دے گا ۔واٹر کمپنی کے نمائندے سے مکالمے کے دوران چیف جسٹس نے کہاکہ آپ اپنی انڈسٹری بند کر دیں، ایک صنعت کے فائدہ کے لئے قوم کا نقصان نہیں کرسکتے، آپ اپنے کاروبار کے لیے خام مال مفت کیوں لے رہے ہیں، آپ کے منافع کے لیے قوم کو پیاسا نہیں مرنے دوں گا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے واٹر کمپنی کے نمائندے کو کہا کہ بوتلوں کے پانی کو بند کر دیں، ہم گھڑے کا پانی پی لیں گے، آپ اس قوم کے مسیحا نہیں، قوم کی فکر چھوڑیں اور اپنے منافع کی فکر کریں، 30 سال سے آپ واٹر کمپنی کے نام سے فیکٹری چلا رہے ہیں اور اس عرصے میں قوم کا کتنا پانی استعمال کر گئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ چار دفعہ میں نے آپ کے منرل واٹر میں ملاوٹ پکڑی ہے، آپ کے وکیل میرے پاس سفارشیں لے کر آتے رہے۔

ماہر ماحولیات پروفیسر ڈاکٹر احسن صدیقی نے عدالت کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کمپنیوں کے پاس پانی کی کوالٹی چیک کرنے کے آلات ہی نہیں اور انہوں نے کسی ماحولیات کمپنی سے سرٹیفکیٹ بھی نہیں لیا۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ مجھے بتائیں بوتلوں والا پانی کیسے تیار کیا جاتا ہے اور بوتل میں بند پانی کی کوالٹی کیا ہے۔جس پر پروفیسر احسن صدیقی نے بتایا کہ انسان پانی کی ایک بوند بھی پیدا نہیں کر سکتا ،ْایک کمپنی کا ایک پلانٹ لگ بھگ ایک لاکھ لیٹر ایک گھنٹے میں زمین سے پانی نکال رہا ہے، کراچی میں زیر زمین پانی کی سطح 100 فٹ سے 400 فٹ پر چلی گئی ہے۔

ڈی جی ماحولیات کے مطابق پانی کی کوئی کمپنی زیر زمین پانی کے استعمال پر ایک روپیہ بھی حکومت کو نہیں دے رہی اور زیر زمین پانی سے صاف پانی حاصل کرنے کے بعد ویسٹ کو پھینک دیا جاتا ہے، ایسا ویسٹ زیر زمین پانی کو مزید آلودہ کر رہا ہے۔پروفیسر احسن صدیقی نے کہاکہ دریائے سندھ کے پانی سے بیکٹیریا ختم کر دیا جائے تو یہ بوتلوں سے ہزار گنا بہتر پانی ہے۔

عدالتی معاون نے اس موقع پر کہا کہ پانی کی بوتل کے بجائے زمین سے نکالے جانے والے فی لیٹر پانی پر ٹیکس عائد کیا جائے اور جب سے کمپنیاں پانی نکال رہی ہیں تب سے ٹیکس وصول کیا جائے۔بعد ازاں وقفے کے بعد ایک بار پھر کیس کی سماعت ہوئی تو عدالت نے اس حوالے سے اپنا حکم جاری کیا۔سپریم کورٹ نے پانی بیچنے والی کمپنیوں کو زیر زمین نکالے گئے پانی پر ایک روپیہ فی لیویز کی مد میں ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ وفاق اور چاروں صوبائی حکومتیں اس حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کریں اور مجاز حکام دو روز میں نوٹی فکیشن کریں۔