وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر نظرثانی کے لئے کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے، کمیشن تین سے چھ ماہ کے اندر کام کرے گا، اسلام آباد میں قبضے کرنے والوں کے خلاف جلد بڑا آپریشن شروع کیا جائے گا،

کچی بستیوں اور غریبوں کو نہیں چھیڑا جائے گا، آج سے پہلے کسی حکومت نے قبضہ مافیا پر ہاتھ نہیں ڈالا، اب ان کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا اور انہیں مثال بنایا جائے گا وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان کا پریس کانفرنس سے خطاب

منگل نومبر 23:21

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر نظرثانی کے لئے کمیشن ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 نومبر2018ء) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی علی نواز اعوان نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر نظرثانی کے لئے کمیشن تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جو پروفیشنل لوگوں پر مشتمل ہوگا، کمیشن تین سے چھ ماہ کے اندر کام کرے گا، اسلام آباد میں قبضے کرنے والوں کے خلاف جلد بڑا آپریشن شروع کیا جائے گا، کچی بستیوں اور غریبوں کو نہیں چھیڑا جائے گا، آج سے پہلے کسی حکومت نے قبضہ مافیا پر ہاتھ نہیں ڈالا، اب ان کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا اور انہیں مثال بنایا جائے گا۔

منگل کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت سی ڈی اے کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیئرمین سی ڈی اے اور ان کی ٹیم نے وزیراعظم کو تفصیلی بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ 1960ء میں اسلام آباد کے ماسٹر پلان پر آج تک نظرثانی نہیں کی گئی جبکہ ہر 20 سال بعد اس پر بڑھتی ہوئی آبادی اور نئی ضروریات کے تحت نظرثانی کی جانی تھی جس کی وجہ سے مسائل پیدا ہوئے، قبضہ مافیا کو لائسنس دیئے گئے، گرین بیلٹس پر قبضے کئے گئے اور جنگلات کی زمینوں پر تجاوزات کی گئیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تین سے چھ ماہ کے اندر ماسٹر پلان پر نظرثانی کی جائے اور قانونی دائرہ میں رہتے ہوئے تمام ضروریات کا جائزہ لے کر نیا ماسٹر پلان ترتیب دیا جائے، متاثرین اور ماڈل ویلیج قائم کرنے کے حوالے سے بھی قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے اسلام آباد بہت متاثر ہوا ہے، پہلے بارشیں زیادہ ہوتی تھیں، اب بہت کم ہو گئی ہیں، جنگلات تیزی سے کم ہو رہے ہیں، سڑکوں پر رش نظر آتا ہے اور صبح و شام کے اوقات میں روڈ بند ہو جاتے ہیں۔

اسلام آباد کی آبادی 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے اور پینے کے پانی، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر سمیت بہت سے مسائل کا سامنا ہے اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ ایک کمیشن بنایا جائے گا جو آزادانہ طور پر کام کرے گا، اس میں پروفیشنل لوگ شامل کئے جائیں گے اور ایسا ماسٹر پلان ترتیب دیا جائے گا جو اسلام آباد کے مسائل کا حل پیش کر سکے۔ اس کمیشن میں تمام فریقین شامل ہوں گے۔

علی نواز اعوان نے اس موقع پر کہا کہ اسلام آباد کی جو صورتحال بن چکی ہے اس کو تبدیل کرنا ہوگا اور اسلام آباد کو ایسا دارالحکومت بنانا ہوگا جیسا کہ یہ تھا، یہ شہر ابتدائی طور پر چھ لاکھ لوگوں کے لئے بنایا گیا تھا جبکہ آج آبادی 20 لاکھ ہو چکی ہے، متاثرین اسلام آباد کا مسئلہ بھی بہت بڑا ہے، لینڈ ایکوزیشن کے مسائل چلے آ رہے ہیں، متاثرین اپنے حقوق مانگ رہے ہیں جو سی ڈی اے سے انہیں نہیں مل رہے، سب سے بڑا مسئلہ مشروم گروتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پانی کا مسئلہ سب سے بڑا ہے، اس کے علاوہ کئی علاقوں میں گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ رسائی مشکل ہے، اسلام آباد کے بارے میں کبھی نہیں سوچا گیا اور اسے قبضہ مافیا کے ہاتھوں فروخت کر دیا گیا، وزیراعظم عمران خان چاہتے ہیں کہ اسلام آباد پاکستان کا حقیقی چہرہ ہو، اس لئے ماسٹر پلان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ کسی ماہر شخص کو کمیشن کی سربراہی دی جائے گی اور تین سے چھ ماہ کے اندر اس کی شکل سامنے آ جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ بحریہ انکلیو کے پاس دو موضعات سے 33000 کنال زمین واگذار کروائی گئی ہے جس میں سے 1200 بحریہ انکلیو کے پاس تھی۔ اس میں سے 400 کنال کمرشل تھی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت مکمل تیاری کے بعد ہاتھ ڈالے گی اور جلد بازی میں کوئی کام نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قبضہ کرنے والوں کے حوالے سے حقائق جلد قوم کے سامنے لائیں گے۔

یہ پہلی حکومت ہے جس میں سی ڈی اے نے موجودہ وزیراعظم کو بھی نوٹس بھیجا۔ انہوں نے ایک ایک روپے کی منی ٹریل دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے قبضہ مافیا کو پولیس پروٹیکشن ملتی تھی جو کہتے تھے کہ فائلوں کو پہیے لگا دیتے ہیں ان سے زمینیں واگذار کروائی گئی ہیں۔ تھوڑا انتظار کریں، جن لوگوں نے زمینوں پر قبضے کئے ہیں ان کے لئے نئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

قبضہ مافیا کا تعلق کسی سے بھی ہو اسے نہیں چھوڑا جائے گا۔ ہم صرف باتیں نہیں عملی اقدامات کر رہے ہیں، پنجاب اور سندھ میں بھی تجاوزات کے خلاف کام کیا ہے۔ سب سے پہلے کے پی کے میں پشاور سے یہ کام شروع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سی ڈی اے، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور سیاسی لوگوں سمیت جو بھی قبضہ مافیا کے سہولت کار تھے، ان سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قبضہ مافیا کا پورا ڈیٹا جمع کیا جا رہا ہے، وہ کارروائی کے لئے تیار ہو جائیں۔ علی نواز اعوان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وزیراعظم نے واضح کیا ہے کہ ہمارا آپریشن قبضہ مافیا کے خلاف ہے، کچی آبادیوں اور غریبوں کے خلاف نہیں، ریاست نے آج تک غریبوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ کچی آبادیوں کو نہیں چھیڑیں گے، یہ ہمارا وژن ہے، ان کے لئے بحالی کی پالیسی لائی جائے گی۔

آج سے پہلے کسی حکومت نے قبضہ مافیا پر ہاتھ نہیں ڈالا، ہم نے بڑی بڑی مارکیٹوں کے خلاف آپریشن کیا ہے، آنے والے دنوں میں اس سے بھی بڑے آپریشن کریں گے۔ پولیس کے مغوی اور لاپتہ افسر کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ حساس معاملہ ہے، اس حوالے سے افواہوں پر کان نہ دھرے جائیں، پاکستان پر سائبر وار فیئر مسلط کر دی گئی ہے اس لئے کسی قسم کے پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوا جائے۔

لاپتہ افراد سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ برسوں پرانا ہے، وزیراعظم نے 100 دنوں کا جو ایجنڈا دیا ہے اس پر عمل درآمد کریں گے، لاپتہ افراد، ناراض ہو کر پہاڑوں پر جانے والے یا دوسرے ملکوں میں منتقل ہونے والوں سمیت سب مسائل کو سنجیدگی سے حل کیا جا رہا ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ جتنے بھی قبضہ مافیا ہیں ان کے خلاف کارروائی کر کے انہیں مثال بنایا جائے گا، میڈیا بھی قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی میں ساتھ دے، قانون صرف غریبوں کے لئے نہیں بنا، بڑے لوگوں کے خلاف بھی قانون حرکت میں آئے گا۔

علی نواز اعوان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جی 12 میں رائٹ آف وے پر جو بڑی بڑی مارکیز بنی ہوئی تھیں، ان کے ساتھ بڑے بڑے مافیاز ملے ہوئے تھے، یہ آپریشن رکے گا نہیں آگے بڑھے گا۔