کیوں نہ انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیں

چیف جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت نشست چھوڑ کر روسٹرم پر آنے پر ملک ریاض کو بری طرح جھاڑ دیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس منگل نومبر 22:22

کیوں نہ انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیں
راولپنڈی(اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔13نومبر2018ء) چیف جسٹس ثاقب نثار نے دوران سماعت نشست چھوڑ کر روسٹرم پر آنے پر بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کو چھاڑ پلاتے ہوئے کہا کہ آپ بار بار عدالت کی کاروائی میں مداخلت کررہے ہیں کیوں نہ آپکو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا جائے۔تفصیلات کے مطابق بحریہ ٹاون راولپنڈی کیس کی نظر ثانی اپیل کی سماعت سپریم کورٹ میں ہوئی۔

اس موقع پر چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے نظر ثانی اپیل کی سماعت کی۔اس دوران دلائل دیتے ہوئے بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ ریکارڈ کے مطابق جنگلات کی ایک ہزار کنال سے زائد اراضی اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد بحریہ ٹاون روالپنڈی کو دی گئی۔جس پر عدالت کی جانب سے پوچھا گیا کہ اس وقت وزیر اعلیٰ پنجاب کون تھا جس پر اعتزاز احسن نے بتایا کہ اس وقت پرویز الہٰی وزارت اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر فائز تھے۔

(جاری ہے)

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس کیس میں تو وزیر اعلیٰ کوئی کردار نہیں انہوں نے کیسے زمین دینے کی منظوری دی ،اس پر جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ اسی زمین میں سے 270کنال اراضی سابق وزیر اعلیٰ اور موجودہ اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی کے خاندان کو دی گئی۔اس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن کیا یہ ریفرنس دائر کرنے کے لیے بہترین کیس نہیں، ہم پرویز الہٰی کو نوٹس بھیج دیتے ہیں۔

دوران سماعت ملک ریاض نشست سے اٹھ کر روسٹرم پر آگئے تو چیف جسٹس نے ان پر شدید اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ میرے سامنے ملک ریاض ایک عام آدمی ہیں، ملک ریاض عدالتی کارروائی میں بار بار مداخلت کرتے ہیں۔ کیوں نہ انہیں توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیں، وکیل کے دلائل پسند نہیں تو وکیل تبدیل کر لیں، جائیں اور اپنی سیٹ پر بیٹھ جائیں۔